مری سے سکردو تک ریکارڈ سفر، حکومتی سرپرستی نہ ملی تو ایتھلیٹ نےتریفٹ شوز کا کاروبار شروع کر دیا

image

پاکستان کے مایہ ناز ایتھلیٹ اور نیشنل میڈلسٹ مختار حسین نے مشکلات کے باوجود عزم و ہمت کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے مری سے سکردو تک تقریباً گیارہ روز میں سفر مکمل کیا۔

بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے مختار حسین نے اپنے اس منفرد منصوبے کے دوران شدید جسمانی مشکلات کا سامنا کیا، تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنا ٹاسک کامیابی سے مکمل کیا۔

مختار حسین کے مطابق انہوں نے اپنے اس منصوبے کے لیے بلوچستان اسپورٹس بورڈ سے مالی معاونت کی درخواست کی تھی، تاہم انہیں یہ کہہ کر فنڈز فراہم کرنے سے انکار کر دیا گیا کہ یہ کس نوعیت کی گیم ہے اور اس کے لیے بورڈ کے پاس فنڈز موجود نہیں۔

مالی مشکلات کے باوجود مختار حسین نے اپنے منصوبے کو ترک کرنے کے بجائے غیرملکی کمپنیوں سے رابطہ کیا، جس کے نتیجے میں آسٹریلیا کی ایک کمپنی نے ان کے منصوبے کو اسپانسر کیا۔

مری سے سکردو تک طویل سفر کے دوران مختار حسین کو شدید جسمانی تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔

مسلسل دوڑ اور سخت موسمی و جسمانی حالات کے باعث ان کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے جبکہ ٹانگوں سمیت جسم کی جلد بھی متاثر ہوئی، لیکن انہوں نے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا اور تقریباً گیارہ روز میں سکردو پہنچ کر اپنا ٹاسک مکمل کیا۔

مختار حسین کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھارت کے تقریباً 6 ہزار کلومیٹر کے ریکارڈ کو توڑنے کا عزم رکھتے ہیں۔

انہوں نے اس مقصد کے لیے دوبارہ بلوچستان اسپورٹس بورڈ سے مالی معاونت کی درخواست کی، تاہم انہیں ایک بار پھر فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار مالی معاونت کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے انہوں نے اپنے لیے روزگار کا ذریعہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔

مختار حسین کے مطابق انہیں بچپن ہی سے تریفٹ شوز استعمال کرنے اور خریدنے کا شوق تھا، جبکہ مختلف رننگ اور میراتھن ایونٹس میں شرکت کے باعث انہیں تریفٹ شوز کے معیار اور خصوصیات کا بھی خاصا تجربہ حاصل ہو چکا تھا۔

انہوں نے اسی تجربے کو کاروبار میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور اسلام آباد کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم اپنے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے دوستوں سے رابطہ کیا۔

مختار حسین کے مطابق ان کے دوست ارسلان، مطیع اللہ اور دیگر ساتھیوں سمیت تقریباً پانچ دوستوں نے مل کر ٹریل شوز کا کاروبار شروع کیا۔

مختار حسین کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انہوں نے سوچا تھا کہ شاید ایک سیزن کے بعد یہ کاروبار ختم کر دیں گے، تاہم لوگوں کی جانب سے ملنے والے حوصلہ افزا ردعمل اور قومی کھلاڑی کے ساتھ عوام کی محبت نے انہیں مستقل بنیادوں پر کاروبار جاری رکھنے پر آمادہ کیا۔

ان کے مطابق الحمدللہ کاروبار میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اب وہ اپنے کھیلوں کے منصوبوں اور روزمرہ اخراجات کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے وسائل خود پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مختار حسین نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان انہیں سرپرستی اور مالی معاونت فراہم کرے تو وہ پاکستان کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزید اعزازات حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے حکومت، وزیراعظم پاکستان، وزیر کھیل اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اپیل کی کہ باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی جائے تاکہ وہ ملک کا نام عالمی سطح پر روشن کر سکیں۔

کاروباری شراکت دار ارسلان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو مایوس ہونے کے بجائے تعلیم کے ساتھ کوئی نہ کوئی کاروبار یا ہنر بھی اختیار کرنا چاہیے تاکہ ان کے تعلیمی اخراجات کا مکمل بوجھ والدین پر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں نوجوانوں کے لیے خود روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔

ارسلان نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر وقت موبائل فون پر اسکرولنگ میں مصروف رہنے کے بجائے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھائیں، تعلیم کے ساتھ کاروبار کریں اور اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تجارت ہماری دینی و معاشرتی روایت کا بھی اہم حصہ ہے اور محنت، دیانت اور مستقل مزاجی کے ساتھ کاروبار میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

مختار حسین، مطیع اللہ، ارسلان اور ان کے دیگر ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کی موجودہ کارکردگی سے مطمئن اور خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اہداف حاصل کرنے کی جانب کامیابی سے بڑھ رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے دیگر بے روزگار نوجوان بھی مایوسی کے بجائے ہنر، کاروبار اور محنت کو اپنا کر اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US