بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے بیٹے کی وفات کے بعد ایسا قدم اٹھایا جسے سوشل میڈیا پر انسانیت، محبت اور حوصلے کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
مدھیہ پردیش کے رہائشی دنیش ویراگی کے بیٹے کپل کا انتقال کینسر کے باعث ہو گیا تھا۔ بیٹے کی موت کے بعد ان کی بہو پریانکا بیوہ ہو گئی۔ اس مشکل وقت میں دنیش ویراگی نے اپنی بہو سے وعدہ کیا کہ وہ اسے ہمیشہ اپنی بیٹی کی طرح رکھیں گے اور اس کی خوشیوں کا خیال رکھیں گے۔
اس وعدے کو نبھانے کے لیے دنیش ویراگی نے اگلے دو سال تک پریانکا کے لیے ایک مناسب رشتہ تلاش کیا۔ جب انہیں موزوں زندگی ساتھی مل گیا تو انہوں نے خود شادی کی تمام تیاریاں کیں، تمام مذہبی اور سماجی رسومات ادا کیں، شادی کے تمام اخراجات برداشت کیے اور ایک باپ کی طرح اپنی بہو کو رخصت کیا۔
دنیش ویراگی کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی بہو سے وعدہ کیا تھا کہ میں ہمیشہ اسے اپنی بیٹی سمجھوں گا، اور میں نے اسی وعدے کو پورا کیا۔
رپورٹس کے مطابق اس واقعے نے لوگوں کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی ہے کہ بعض معاشروں میں آج بھی بیوہ خواتین کی دوبارہ شادی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ایسے ماحول میں دنیش ویراگی کا یہ فیصلہ کئی لوگوں کے لیے ایک مثبت مثال بن گیا۔
اس واقعے کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ رشتوں کی اصل بنیاد صرف خون کا تعلق نہیں بلکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا، محبت اور ہمدردی بھی ہے۔ پریانکا کی نئی زندگی کا آغاز اسی سوچ کی ایک عملی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔