برطانیہ میں ایک غیرمعمولی واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ہی ادارے میں دو سال تک ساتھ کام کرنے والے دو ساتھیوں کو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت سگے بہن بھائی ہیں جو بچپن میں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے۔
60 سالہ ڈیو گرین مانچسٹر ایئرپورٹ کے بس اسٹیشن پر سپروائزر تھے، جبکہ 53 سالہ اینڈریا اُرمسٹن وہاں وینڈنگ مشینوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار تھیں۔ موٹر سائیکلوں سے مشترکہ دلچسپی نے دونوں کے درمیان دوستی پیدا کی جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی گئی۔
ایک روز گود لیے جانے کے موضوع پر گفتگو کے دوران ڈیو نے بتایا کہ انہیں بچپن میں ایک دوسرے خاندان نے گود لیا تھا۔ یہ سن کر اینڈریا نے ذکر کیا کہ ان کا ایک بھائی بھی پیدائش کے فوراً بعد کسی اور خاندان کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ بات اس وقت حیران کن رخ اختیار کر گئی جب ڈیو نے اپنا پیدائشی نام اسٹیورٹ پراؤڈلو بتایا کیونکہ اینڈریا کی شادی سے پہلے ان کا خاندانی نام بھی یہی تھا۔
اس انکشاف کے بعد اینڈریا نے اپنی والدہ سے رابطہ کیا اور اپنے بچھڑے ہوئے بھائی کی تاریخِ پیدائش معلوم کی۔ جب تمام معلومات آپس میں مل گئیں تو دونوں کو یقین ہو گیا کہ وہ برسوں بعد ایک دوسرے سے ملے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈیو کی والدہ سوزن نے صرف 15 سال کی عمر میں انہیں جنم دیا تھا اور بعد میں بے اولاد خاندان کو گود دے دیا تھا۔ انہوں نے برسوں اپنے بیٹے کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ مل سکی۔
حقیقت سامنے آنے کے بعد اینڈریا اپنے بھائی کو پہلی بار ان کی حقیقی والدہ سے ملانے لے گئیں۔ برسوں کی جدائی کے بعد ہونے والی یہ ملاقات انتہائی جذباتی ثابت ہوئی جہاں ماں اور بیٹے نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
ڈیو نے بتایا کہ انہیں دس سال کی عمر میں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ گود لیے گئے ہیں، لیکن جس خاندان نے ان کی پرورش کی، اس نے ہمیشہ انہیں محبت دی، اسی لیے انہوں نے کبھی اپنے اصل خاندان کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔
اگرچہ بعد میں ان کی والدہ سوزن کا انتقال ہو گیا لیکن دونوں بہن بھائی اس بات پر مطمئن ہیں کہ انہیں اپنی والدہ سے ان کی زندگی میں دوبارہ ملنے کا موقع مل گیا۔ آج وہ برطانیہ میں ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں اور برسوں کی جدائی کے بعد خاندانی رشتے کو دوبارہ مضبوط بنا رہے ہیں۔ ڈیو کے مطابق زندگی کی سب سے بڑی خوشی دولت نہیں بلکہ اپنے لوگوں کا ساتھ ہوتا ہے اور اپنے خاندان سے دوبارہ ملنا ان کے لیے کسی خواب کے پورا ہونے سے کم نہیں۔