پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستانی شائقین جہاں ایک جانب پاکستانی گیند بازوں کے سُست رفتار بولنگ سے خائف نظر آتے ہیں، وہیں کُچھ اُن کی لائن اور لینتھ پر ان کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹروبا میں جاری ٹیسٹ میچ میں دوسرے روز پاکستان کی بیٹنگ خاصی پراعتماد نظر آئی۔ پاکستان نے دوسرے دن کے اختتام پر ویسٹ انڈیز کے 311 رنز کے جواب میں 199 رنز بنالیے ہیں۔
ٹروبا ٹیسٹ کے دوسرے دن پاکستان نے پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کے 311 رنز کے جواب میں تین وکٹ پر 199 رنز سکور کیے ہیں، شان مسعود 88 رنزاور سلمان علی آغا صفر پر ناٹ آؤٹ ہیں۔
امام الحق 63، اذان اویس صفر اور کپتان بابر اعظم 23 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔
اس میچ میں ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور 311 پر اُس کے تمام کھلاڑی آؤٹ ہو گئے تھے۔
ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز
ٹیسٹ کے دوسرے دن ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز 194 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے آگے بڑھائی۔ کیوم ہوج 84 رنز بناکر آؤٹ ہوئے اور شے ہوپ نے 92 رنز کی اننگز کھیلی۔
ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم کھانے کے وقفے کے بعد 311 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان کی جانب سے محمد علی نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، محمد عباس نے تین، خرم شہزاد نے دو اور عامر جمال نے ایک وکٹ حاصل کی۔
پاکستان کی پہلی اننگز
ویسٹ انڈیز کے 311 رنز کے جواب میں پاکستان کا آغاز اچھا نہ رہا، اوپنر اذان اویس بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔
دوسری وکٹ پر شان مسعود اور امام الحق نے 155 رنز کی شراکت میں شاندار انگز کھیلیں، امام الحق 63 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، بابر اعظم بھی 23 رنز بنا سکے۔
سوشل میڈیا پر پِچ اور پاکستانی باؤلنگ کے بارے میں کیا بات ہوئی؟
رمیز راجہ نے اپنے تجزیے میں ویسٹ انڈیز کی پِچ کو نشانہ بنایا ہےویسٹ انڈیز میں جاری میچ کے دوران پُچ کی کنڈیشن پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ پِچ غیر معمولی طور پر سست ہے، جس کی وجہ سے تیز گیند بازوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی کرکٹ شائقین نے اپنی ٹیم کے بولرز پر مختلف رائے دی ہے۔
کچھ صارفین نے پاکستانی تیز گیند بازوں کی رفتار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ کئی شائقین نے مشکل حالات کے باوجود ان کی لائن اور لینتھ پر قابو رکھنے کو سراہا ہے۔
کرن خان نامی ایک ایکس صارف نے سابق کپتان اور معروف کرکٹ تجزیہ کار رمیز راجہ کا پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اس میچ میں کارکردگی پر تبصرہ شئیر کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ فاسٹ بولنگ میں رفتار کی کمی ہے۔‘
رمیز راجہ کے مطابق ویسٹ انڈیز کی وکٹ میں کوئی غیر معمولی بات نہیں اور پچ کافی سست ہے، تاہم پاکستانی فاسٹ بولرز مطلوبہ رفتار نہ ہونے کے باعث مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ویسٹ انڈیز کی جانب سے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ درست تھا۔‘

ایکسپرعروج جاوید نامی ایک صارف نے پاکستان کے فاسٹ بولر محمد علی کی رفتار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں محمد علی مسلسل 138 سے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کر رہے تھے، تاہم ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے پہلے سپیل میں ان کی رفتار 128 سے 134 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رہی۔‘
عروج جاوید نے مزید کہا کہ ’یا تو پی ایس ایل میں استعمال ہونے والی سپیڈ گنز درست رفتار نہیں دکھاتیں یا پھر محمد علی کی رفتار میں واقعی اتنی کمی آئی ہے۔‘
ان کا ایکس پر کہنا تھا کہ ’پاکستان کی فاسٹ بولنگ پہلے ہی برق رفتار اور ایگریسو نہیں رہی، ایسے میں اگر 138 سے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنے والا بولر بین الاقوامی کرکٹ میں 128 سے 134 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرائے تو یہ یقیناً تشویش کا باعث ہے۔‘

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین شان مسعود کی بلے بازی کی تعریف بھی کرتے ہوئے نظر آئے۔
ایکس صارف ارتضیٰ اقبال نے پاکستانی بلے باز کی اننگز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی عمدہ بیٹنگ کی ایک اہم وجہ کپتانی کے دباؤ سے آزادی بھی ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’بطور کپتان کھلاڑی کو مسلسل فیلڈ سیٹنگ، بولنگ میں تبدیلیوں، اوور ریٹ اور مختلف حکمت عملیوں کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے، جبکہ کپتانی کی ذمہ داری نہ ہونے کی صورت میں شان مسعود پوری توجہ اپنی بیٹنگ پر مرکوز کرنے میں کامیاب دکھائی دیے۔‘
ارتضیٰ اقبال کے مطابق ’شان مسعود نے 137 گیندوں پر ناقابلِ شکست 88 رنز کی اننگز کے دوران مثبت انداز اپنایا، بہترین ٹائمنگ کا مظاہرہ کیا اور شاٹس کا انتخاب بھی انتہائی سمجھداری سے کیا۔ شان مسعود پراعتماد، پُرسکون اور اپنی فطری کھیل کے مطابق زیادہ آزادی سے بیٹنگ کرتے نظر آئے۔‘

جہاں ایک جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل تیز گیند باز محمد علی کی کم رفتار سے باؤلنگ کرنے پر کُچھ صارفین نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کُچھ کرکٹ شائقین کی جانب سے اُن کی لائن اور لینتھ پر بھی بات کی۔
ایکس صارف طلحہ نواز نے پاکستان کے تین سابق تیز گیند بازں کے ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل موجودہ تین گیند بازوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر میں سے کسی کی بھی کم سے کم رفتار بھی 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم نہیں تھی مگر اب اس وقت ٹیم میں شامل محمد عباس، محمد علی اور خرم شہزاد کی تو زیادہ سے زیادہ رفتار بھی 136 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی پہچان کبھی برق رفتار فاسٹ بولنگ ہوا کرتی تھی۔ اب وہ خوف کہاں چلا گیا؟ ہماری فاسٹ بولنگ کی شاندار روایت اس سے کہیں بہتر کی مستحق ہے۔‘
تاہم یہاں اس بات کا ذکر کنا ضروری ہے کہ ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میچ میں محمد علی نے چار، محمد عباس نے تین اور خرم شہزاد نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔
اس ٹیسٹ میچ کی ایک اور خاص بات
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کی اور خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا جانے والا پہلے ٹیسٹ میچ ہے۔
اس میچ کے آغاز سے قبل کرکٹ ویسٹ انڈیز (سی ڈبلیو آئی) نے سنیچر کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو برائن لارا کرکٹ اکیڈمی (بی ایل سی اے) میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ کی یاد میں ایک یادگاری شیلڈ پیش کی۔
پی سی بی کی جانب سے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس یادگاری شیلڈ کی تصویر شیئر کی ہے جس پر دونوں ٹیموں کے کپتانوں کی تصاویر بھی موجود ہیں۔