پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ٹیسٹ میں سیمرز کا راج: ’لگتا ہے محمد عباس پر کششِ ثقل کے اصول لاگو ہی نہیں ہوتے‘

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ کا تیسرا روز انتہائی سنسنی خیز رہا، جہاں بولرز کے راج کے باعث میچ میں لمحہ بہ لمحہ صورتحال تبدیل ہوتی رہی۔ ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز بنا لیے ہیں اور اسے پاکستان پر مجموعی طور پر 155 رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ کا تیسرا روز انتہائی سنسنی خیز رہا، جہاں بولرز کے راج کے باعث میچ میں لمحہ بہ لمحہ صورتحال تبدیل ہوتی رہی۔ ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز بنا لیے ہیں اور اسے پاکستان پر مجموعی طور پر 155 رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے۔

ٹروبا ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کے 311 رنز کے جواب میں 282 رنز بنائے۔ پاکستان نے تیسرے دن کا آغاز 199 رنز تین وکٹوں کے نقصان پر کیا تھا۔ سابق کپتان شان مسعود نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کریئر کی ساتویں سنچری مکمل کی اور 109 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ امام الحق 63، اذان اویس صفر اور کپتان بابر اعظم 23 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔

پاکستان ایک وقت میں 244 رنز پر چار وکٹیں گنوا کر مستحکم پوزیشن میں دکھائی دے رہا تھا، تاہم اس کے بعد ویسٹ انڈین میڈیم پیسر جسٹن گریوز نے تاریخی باؤلنگ کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے مسلسل پانچ میڈن اوورز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے ٹیسٹ تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ پاکستان کی پوری ٹیم 282 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں 29 رنز کی معمولی برتری حاصل ہوئی۔

اس میچ میں ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور 311 پر اُس کے تمام کھلاڑی آؤٹ ہو گئے تھے۔

29 رنز کی برتری کے ساتھ اپنی دوسری اننگز کا آغاز کرنے والی ویسٹ انڈین ٹیم کے لیے پاکستانی سیم بولرز آزمائش بن گئے۔ محمد عباس نے شاندار نئے بال کا سپیل کرتے ہوئے پہلے ہی سپیل میں اوپنر برینڈن کنگ اور کیوم ہوج کو پویلین کی راہ دکھائی۔ محمد عباس نے 13 اوورز میں صرف 14 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

خرم شہزاد نے بھی عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد علی اور عامر جمال نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ ویسٹ انڈیز کا ٹاپ اور مڈل آرڈر بھی لڑکھڑا گیا اور محض 43 رنز پر چار وکٹیں اور بعد میں 126 رنز پر سات وکٹیں گر گئیں۔

جسٹن گریوز
Getty Images
پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: جسٹن گریوز کی ریکارڈ ساز بولنگ، پانچ مسلسل میڈن اوورز میں پانچ وکٹیں

ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز

ٹیسٹ کے دوسرے دن ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز 194 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے آگے بڑھائی۔ کیوم ہوج 84 رنز بناکر آؤٹ ہوئے اور شے ہوپ نے 92 رنز کی اننگز کھیلی۔

ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم کھانے کے وقفے کے بعد 311 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستان کی جانب سے محمد علی نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، محمد عباس نے تین، خرم شہزاد نے دو اور عامر جمال نے ایک وکٹ حاصل کی۔

Mohammad Ali (R) of Pakistan after appealing for Justin Greaves (L) of West Indies dismissal during the 2nd day of 1st Test match between West Indies and Pakistan at Brian Lara Cricket Academy in Tarouba, Trinidad and Tobago on July 26, 2026.
Getty Images

پاکستان کی پہلی اننگز

ویسٹ انڈیز کے 311 رنز کے جواب میں پاکستان کا آغاز اچھا نہ رہا، اوپنر اذان اویس بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔

دوسری وکٹ پر شان مسعود اور امام الحق نے 155 رنز کی شراکت میں شاندار انگز کھیلیں، امام الحق 63 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، بابر اعظم بھی 23 رنز بنا سکے۔

سوشل میڈیا پر پِچ اور پاکستانی باؤلنگ کے بارے میں کیا بات ہوئی؟

According to Rameez Raja, there is nothing particularly unusual about the West Indies pitch, and it is quite slow. However, Pakistan's fast bowlers are struggling to make an impact because they lack the required pace.
Getty Images
رمیز راجہ نے اپنے تجزیے میں ویسٹ انڈیز کی پِچ کو نشانہ بنایا ہے

ویسٹ انڈیز میں جاری میچ کے دوران پُچ کی کنڈیشن پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ پِچ غیر معمولی طور پر سست ہے، جس کی وجہ سے تیز گیند بازوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی کرکٹ شائقین نے اپنی ٹیم کے بولرز پر مختلف رائے دی ہے۔

جہاں پہلی اننگز میں کچھ صارفین نے پاکستانی تیز گیند بازوں کی رفتار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا وہیں اب دوسری اننگز میں پاکستانی سیمرز کی کارکردگی کو بھرپور سراہا جا رہا ہے۔

علی عمران نامی صارف نے تبصرہ کیا کہ ’کیریبین کی حبس زدہ فضا میں نئی ڈیوک گیند کے ساتھ محمد عباس کی بولنگ دیکھ کر لگتا ہے کہ کششِ ثقل کے اصول ان پر لاگو ہی نہیں ہوتے۔ بلے باز نہ صرف کیچ دے رہے ہیں بلکہ بری طرح چکرا بھی رہے ہیں۔‘

دانش علی نے لکھا کہ ’ٹروبا کی پچ کے موڈ ٹیسٹ میچ کے آخری سیشن میں کرکٹ شائقین سے زیادہ بدل رہے ہیں۔ ایک گیند نیچے رہتی ہے تو اگلی کیپر کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔‘

یاسر خان نامی صارف نے رائے دی کہ ’سکواڈ میں شامل نئے کھلاڑی شاید یہ سوچ رہے ہیں کہ پہلے کیریبین ڈانس کے سٹیپس سیکھیں یا ڈیفنسو بلاک پر توجہ جمائے رکھیں۔‘

ثاقب جاوید نامی صارف نے لکھا کہ ’ویسٹ انڈیز کے وقت کے مطابق پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا ٹیسٹ میچ دیکھنا گویا صرف 10 اوورز کی ’ایج اینڈ مس‘ بولنگ دیکھنے کے لیے اپنی آٹھ گھنٹے کی نیند قربان کرنا ہے۔۔۔ لیکن یقین کریں، اس سب کا بھی اپنا ہی لطف ہے۔‘

Mohammad Ali (R) of Pakistan celebrates the dismissal of Justin Greaves (L) of West Indies during the 2nd day of 1st Test match between West Indies and Pakistan at Brian Lara Cricket Academy in Tarouba
Getty Images

ایکسپرعروج جاوید نامی ایک صارف نے پاکستان کے فاسٹ بولر محمد علی کی رفتار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں محمد علی مسلسل 138 سے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کر رہے تھے، تاہم ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے پہلے سپیل میں ان کی رفتار 128 سے 134 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رہی۔‘

عروج جاوید نے مزید کہا کہ ’یا تو پی ایس ایل میں استعمال ہونے والی سپیڈ گنز درست رفتار نہیں دکھاتیں یا پھر محمد علی کی رفتار میں واقعی اتنی کمی آئی ہے۔‘

ان کا ایکس پر کہنا تھا کہ ’پاکستان کی فاسٹ بولنگ پہلے ہی برق رفتار اور ایگریسو نہیں رہی، ایسے میں اگر 138 سے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنے والا بولر بین الاقوامی کرکٹ میں 128 سے 134 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرائے تو یہ یقیناً تشویش کا باعث ہے۔‘

Shan Masood of Pakistan during the 2nd day of 1st Test match between West Indies and Pakistan at Brian Lara Cricket Academy in Tarouba
Getty Images

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین شان مسعود کی بلے بازی کی تعریف بھی کرتے ہوئے نظر آئے۔

ایکس صارف ارتضیٰ اقبال نے پاکستانی بلے باز کی اننگز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی عمدہ بیٹنگ کی ایک اہم وجہ کپتانی کے دباؤ سے آزادی بھی ہو سکتی ہے۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’بطور کپتان کھلاڑی کو مسلسل فیلڈ سیٹنگ، بولنگ میں تبدیلیوں، اوور ریٹ اور مختلف حکمت عملیوں کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے، جبکہ کپتانی کی ذمہ داری نہ ہونے کی صورت میں شان مسعود پوری توجہ اپنی بیٹنگ پر مرکوز کرنے میں کامیاب دکھائی دیے۔‘

ارتضیٰ اقبال کے مطابق ’شان مسعود نے 137 گیندوں پر ناقابلِ شکست 88 رنز کی اننگز کے دوران مثبت انداز اپنایا، بہترین ٹائمنگ کا مظاہرہ کیا اور شاٹس کا انتخاب بھی انتہائی سمجھداری سے کیا۔ شان مسعود پراعتماد، پُرسکون اور اپنی فطری کھیل کے مطابق زیادہ آزادی سے بیٹنگ کرتے نظر آئے۔‘

Khurram Shahzad (L) of Pakistan celebrates the dismissal of Kemar Roach (R) of West Indies during the 2nd day
Getty Images

جہاں ایک جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل تیز گیند باز محمد علی کی کم رفتار سے باؤلنگ کرنے پر کُچھ صارفین نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کُچھ کرکٹ شائقین کی جانب سے اُن کی لائن اور لینتھ پر بھی بات کی۔

ایکس صارف طلحہ نواز نے پاکستان کے تین سابق تیز گیند بازں کے ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل موجودہ تین گیند بازوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر میں سے کسی کی بھی کم سے کم رفتار بھی 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم نہیں تھی مگر اب اس وقت ٹیم میں شامل محمد عباس، محمد علی اور خرم شہزاد کی تو زیادہ سے زیادہ رفتار بھی 136 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی پہچان کبھی برق رفتار فاسٹ بولنگ ہوا کرتی تھی۔ اب وہ خوف کہاں چلا گیا؟ ہماری فاسٹ بولنگ کی شاندار روایت اس سے کہیں بہتر کی مستحق ہے۔‘

تاہم یہاں اس بات کا ذکر کنا ضروری ہے کہ ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان جاری پہلے ٹیسٹ میچ میں محمد علی نے چار، محمد عباس نے تین اور خرم شہزاد نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔

اس ٹیسٹ میچ کی ایک اور خاص بات

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کی اور خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا جانے والا پہلے ٹیسٹ میچ ہے۔

اس میچ کے آغاز سے قبل کرکٹ ویسٹ انڈیز (سی ڈبلیو آئی) نے سنیچر کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو برائن لارا کرکٹ اکیڈمی (بی ایل سی اے) میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ کی یاد میں ایک یادگاری شیلڈ پیش کی۔

پی سی بی کی جانب سے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس یادگاری شیلڈ کی تصویر شیئر کی ہے جس پر دونوں ٹیموں کے کپتانوں کی تصاویر بھی موجود ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US