پاکستان کے مسٹری اسپنر عثمان طارق نے اس بڑھتے ہوئے رجحان کی مذمت کی ہے جس کے تحت بلے باز ان کے ہاتھوں آؤٹ ہونے پر ان کے بولنگ ایکشن کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھاتے ہیں۔
گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کھیلنے والے عثمان کو حال ہی میں برطانیہ میں جاری دی ہنڈرڈ ایونٹ میں بھی اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جہاں آسٹریلوی بلے باز ٹم ڈیوڈ نے آؤٹ ہونے کے بعد کریز پر کھڑے ہو کر ان کے بولنگ ایکشن کی طرف اشارہ کیا۔
عثمان نے ایک انٹرویو میں کہا، "یہ کام بلے بازوں کا نہیں ہے۔ تمام تر امور کا جائزہ لینے کے لیے امپائرز اور میچ ریفری موجود ہیں۔ اگر امپائر مجھے بولنگ کی اجازت دے رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ میرا بولنگ ایکشن قانون کے مطابق ہے۔"
اسپنر، جو اپنے ہم وطن ابرار احمد کے ساتھ اس سال دی ہنڈرڈ میں شرکت کرنے والے واحد پاکستانی ہیں، نے کہا کہ جب بھی وہ کسی بلے باز کو آؤٹ کرتے ہیں تو اس کا ان کے ایکشن پر سوال اٹھانا اب ان کے لیے باعثِ تکلیف بنتا جا رہا ہے۔
عثمان نے کہا، "شاید امپائرز اور میچ ریفری کو اس حوالے سے کچھ اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یاد ہے کہ دبئی میں انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی لیگ میں بھی انگلینڈ کے ٹام بینٹن نے یہی کیا تھا اور اس وقت میں نے انہیں آؤٹ کرنے کے بعد واضح طور پر اپنے جذبات سے آگاہ کر دیا تھا۔"
بھارت کے مایہ ناز اسپنر روی چندرن اشون بارہا کہہ چکے ہیں کہ عثمان کا گیند پھینکنے سے قبل رکنے (پاز) کا انداز غیر قانونی نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بولرز کے لیے اس طرح رک کر گیند کروانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
عثمان کے ایکشن کی پاکستان سپر لیگ (PSL) کے ایک میچ میں ایک بار رپورٹ کی گئی تھی، لیکن بعد میں آئی سی سی نے انہیں کلیئر کر دیا تھا۔
رواں سال کے آغاز میں لاہور میں ایک دو طرفہ سیریز کے دوران بھی آسٹریلیا کے کیمرون گرین آؤٹ ہونے کے بعد کریز پر کھڑے ہو گئے تھے اور انہوں نے عثمان کے بولنگ ایکشن پر اشارے کیے تھے۔
عثمان نے مزید کہا، "یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ میں اپنی بولنگ کی ورائٹی پر بہت محنت کرتا ہوں کیونکہ آج کل کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اسپنرز کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے۔ آپ کو ہر وقت مکمل توجہ مرکوز رکھنی پڑتی ہے۔"