ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 90 رنز سے ہرا دیا، ’بابر اعظم کی نصف سنچری بھی پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکی‘

ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا سٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے دی ہے۔
getty
Getty Images

ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا سٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے دی ہے۔

ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی پہلی اننگز میں 311 رنز بنائے۔ میزبان ٹیم کی جانب سے شائی ہوپ نے 92 اور کیویم ہوج نے 84 رنز کی نمایاں اننگز کھیلیں۔ پاکستان کے لیے محمد علی نے چار جبکہ محمد عباس نے تین وکٹیں حاصل کیں۔

جواب میں پاکستان کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 282 رنز بنا سکی۔ پاکستانی اننگز کی خاص بات شان مسعود کی 109 رنز کی شاندار سنچری اور امام الحق کے 63 رنز تھے۔ تاہم مڈل آرڈر خاطر خواہ مزاحمت نہ کر سکا۔ ویسٹ انڈیز کے جسٹن گریوز نے پانچ وکٹیں لیں۔

پاکستان ایک موقع پر 244 رنز پر چار وکٹوں کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ پہلی اننگز میں برتری حاصل کر لے گا، تاہم ویسٹ انڈیز کے جسٹن گریوز نے میچ کا رخ بدلتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی پوری ٹیم 282 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ اس طرح ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں 29 رنز کی اہم برتری حاصل ہوئی۔

getty
Getty Images

دوسری اننگز میں پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ویسٹ انڈیز کو 181 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ محمد عباس سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے 22 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ خرم شہزاد اور محمد علی نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

پاکستان کو جیت کے لیے 211 رنز کا ہدف ملا، لیکن دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی۔ ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے بعد کپتان بابر اعظم نے 58 رنز بنائے۔

پاکستان کی پوری ٹیم 40.2 اوورز میں 120 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ محمد عباس نے 23 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ بابر اعظم کے علاوہ کوئی بھی بلے باز 15 رنز سے آگے نہ بڑھ سکا۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیڈن سیلز نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ کیمار روچ اور جسٹن گریوز نے دو، دو جبکہ شمار جوزف نے ایک وکٹ حاصل کی۔

جسٹن گریوز کو میچ میں پانچ وکٹیں لینے اور اہم آل راؤنڈ کارکردگی پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔

abbas
Getty Images
محمد عباس

پاکستان کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر ایک صارف نے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بابر اعظم کی نصف سینچری بھی پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکی۔‘

ویسٹ انڈیز میں ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کے دوران پچ کی کنڈیشن پر بھی بحث جاری رہی۔

ایک طرف یہ کہا جا رہا تھا کہ موجودہ پِچ غیر معمولی طور پر سست ہے، جس کی وجہ سے تیز گیند بازوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی کرکٹ شائقین نے اپنی ٹیم کے بولرز پر مختلف رائے دی ہے۔

جہاں پہلی اننگز میں کچھ صارفین نے پاکستانی تیز گیند بازوں کی رفتار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا وہیں دوسری اننگز میں پاکستانی سیمرز کی کارکردگی کو بھرپور سراہا۔

علی عمران نامی صارف نے تبصرہ کیا کہ 'کیریبین کی حبس زدہ فضا میں نئی ڈیوک گیند کے ساتھ محمد عباس کی بولنگ دیکھ کر لگتا ہے کہ کششِ ثقل کے اصول ان پر لاگو ہی نہیں ہوتے۔ بلے باز نہ صرف کیچ دے رہے ہیں بلکہ بری طرح چکرا بھی رہے ہیں۔'

دانش علی نے لکھا کہ 'ٹروبا کی پچ کے موڈ ٹیسٹ میچ کے آخری سیشن میں کرکٹ شائقین سے زیادہ بدل رہے ہیں۔ ایک گیند نیچے رہتی ہے تو اگلی کیپر کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔'

یاسر خان نامی صارف نے رائے دی کہ 'سکواڈ میں شامل نئے کھلاڑی شاید یہ سوچ رہے ہیں کہ پہلے کیریبین ڈانس کے سٹیپس سیکھیں یا ڈیفنسو بلاک پر توجہ جمائے رکھیں۔'

ثاقب جاوید نامی صارف نے لکھا کہ 'ویسٹ انڈیز کے وقت کے مطابق پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا ٹیسٹ میچ دیکھنا گویا صرف 10 اوورز کی 'ایج اینڈ مس' بولنگ دیکھنے کے لیے اپنی آٹھ گھنٹے کی نیند قربان کرنا ہے۔۔۔ لیکن یقین کریں، اس سب کا بھی اپنا ہی لطف ہے۔'

جسٹن گریوز
Getty Images
جسٹن گریوزنے مسلسل پانچ میڈن اوورز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کیا

جہاں ایک جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل تیز گیند باز محمد علی کی کم رفتار سے باؤلنگ کرنے پر کُچھ صارفین نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کُچھ کرکٹ شائقین کی جانب سے اُن کی لائن اور لینتھ پر بھی بات کی۔

ایکس صارف طلحہ نواز نے پاکستان کے تین سابق تیز گیند بازں کے ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل موجودہ تین گیند بازوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ 'وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر میں سے کسی کی بھی کم سے کم رفتار بھی 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم نہیں تھی مگر اب اس وقت ٹیم میں شامل محمد عباس، محمد علی اور خرم شہزاد کی تو زیادہ سے زیادہ رفتار بھی 136 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'پاکستان کی پہچان کبھی برق رفتار فاسٹ بولنگ ہوا کرتی تھی۔ اب وہ خوف کہاں چلا گیا؟ ہماری فاسٹ بولنگ کی شاندار روایت اس سے کہیں بہتر کی مستحق ہے۔'

اس ٹیسٹ میچ کی ایک اور خاص بات

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کی اور خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا جانے والا پہلے ٹیسٹ میچ تھا۔

اس میچ کے آغاز سے قبل کرکٹ ویسٹ انڈیز (سی ڈبلیو آئی) نے سنیچر کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو برائن لارا کرکٹ اکیڈمی (بی ایل سی اے) میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ کی یاد میں ایک یادگاری شیلڈ پیش کی۔

پی سی بی کی جانب سے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس یادگاری شیلڈ کی تصویر شیئر کی ہے جس پر دونوں ٹیموں کے کپتانوں کی تصاویر بھی موجود ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US