کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور معاہدوں کی معلومات افشا نہ کرنے کے لیے پی سی بی عدالت پہنچ گیا

image

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ مالی و معاہداتی معاملات اور ملازمین کی تنخواہوں کی خفیہ تفصیلات شیئر کرنے سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

پی سی بی نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے ان احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی ہیں جن میں کھلاڑیوں اور ملازمین کی مالی اور معاہداتی تفصیلات عام کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

پی آئی سی نے حقِ رسائی معلومات ایکٹ 2017ء کے تحت پی سی بی کو یہ ہدایات جاری کی تھیں۔بورڈ کے ایک بااعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پی سی بی کے لیے ایک عجیب و غریب اور پیچیدہ صورتحال ہے کیونکہ اگر وہ اب پی آئی سی کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں تو دیگر ادارے اور کمیٹیاں بھی بورڈ سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سمیت دیگر مالیاتی معاملات کی تفصیلات مانگنا شروع کر سکتی ہیں۔

پی آئی سی نے 9 جولائی کی ایک ہدایت کے ذریعے پی سی بی سے مالی سال 2023ء تا 2026ء کے سالانہ بجٹ کے علاوہ اخراجات کی تفصیلات اور کھلاڑیوں و ملازمین کے معاہدوں کی معلومات فراہم کرنے کا کہا ہے۔

انہوں نے رواں برس ٹی 20 ورلڈ کپ میں جانے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔اس کے علاوہ پی آئی سی نے پی سی بی سے فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور ان کے اخراجات کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔

پی سی بی نے پی آئی سی کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایک انتہائی مسابقتی بین الاقوامی کھیل کے ماحول میں کام کرتا ہے اور سرکاری خزانے سے فنڈز حاصل کرنے والے سرکاری اداروں کے برعکس اسے وفاقی حکومت یا مجموعی قومی فنڈ سے کوئی فنڈنگ حاصل نہیں ہوتی۔ پی سی بی نے عدالت میں جمع کرایا کہ معاوضوں کے خفیہ ڈھانچے اور معاہداتی شرائط کا افشاء اس کے تجارتی مفادات اور معاہداتی مذاکرات کو نقصان پہنچائے گا۔

بورڈ نے عبوری ریلیف کی استدعا بھی کی اور دلیل دی کہ ایک بار جب خفیہ معاہداتی اور ذاتی مالیاتی معلومات منظر عام پر آ گئیں تو اس سے اس کے تجارتی مفادات، معاہداتی تعلقات اور فریق ثالث کے حقوقِ پرائیویسی کو پہنچنے والا نقصان نا قابلِ تلافی ہو گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US