گلاسگو میں کامن ویلتھ گیمز کے اختتام پر باکسر قدرت اللہ کے ٹیم ہوٹل سے غائب ہوجانے کے بعد پاکستان باکسنگ فیڈریشن (پی بی ایف) ایک بار پھر شدید تنقید اور جانچ پڑتال کی زد میں آگئی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پی بی ایف غلط وجوہات کی بنا پر سرخیوں میں آئی ہو، کیونکہ ماضی میں بھی تقریباً ہر بڑے بین الاقوامی ایونٹ کے موقع پر بیرون ملک باکسرز کے غائب ہونے (سلیپ ہونے) کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ایک بااعتماد ذرائع نے منگل کے روز بتایا کہ قدرت اللہ کامن ویلتھ گیمز میں اپنے ویٹ کیٹیگری کے مقابلوں کے بعد ٹیم ہوٹل سے پراسرار طور پر غائب ہوگیا۔
ذرائع نے بتایا کہ پی بی ایف کے کچھ عہدیداروں پر ماضی میں بھی "انسانی اسمگلنگ" اور ویزا اسکینڈل گینگ کا حصہ ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
"دلہچسپ بات یہ ہے کہ قدرت اللہ اپنا پاسپورٹ ٹیم منیجر کے پاس ہونے کے باوجود غائب ہوا۔"
2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز کے دوران بھی دو قومی باکسرز سلیمان بلوچ اور نذیر اللہ خان برمنگھم میں غائب ہوگئے تھے، حالانکہ اطلاعات کے مطابق ان کے پاسپورٹ بھی وفد کے سربراہ کی تحویل میں تھے۔
اس کے علاوہ 2024 میں اٹلی میں منعقدہ ورلڈ اولمپک کوالیفائرز کے دوران ایشین گولڈ میڈلسٹ باکسر زہیب رشید بسٹو ارسیزیو کے قصبے میں اپنے روم میٹ کی غیر ملکی کرنسی اور قیمتی سامان چوری کرکے غائب ہوگیا تھا۔
گلاسگو سے واپس لوٹنے والا 36 رکنی پاکستانی وفد صرف ایک برونز میڈل حاصل کرسکا جو خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے اپنی ویٹ کیٹیگری میں جیتا۔