کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے پاکستان میں اے لیول کے طلبہ کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے لیک ہونے والے ریاضی کے پرچے سے متعلق اپنا سابقہ مؤقف واپس لے لیا ہے۔
کیمبرج کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اے لیول ریاضی (9709 پیپر 52) کے پاکستانی امیدواروں کے نتائج اب اصل امتحانی جوابات کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے اور طلبہ کو ان کی حقیقی کارکردگی کے مطابق گریڈ دیے جائیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میں لیک شدہ ریاضی کے پرچے تک رسائی محدود افراد تک رہی، جس کے باعث مجموعی امتحانی نتائج متاثر نہیں ہوئے۔
دوسری جانب اے ایس کمپیوٹر سائنس کے امتحان کے حوالے سے کیمبرج نے اپنے پہلے سے کیے گئے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اس مضمون کے نتائج تخمینہ شدہ نمبروں (Estimated Marks) کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے، کیونکہ متعلقہ پرچہ امتحان سے قبل بڑے پیمانے پر گردش میں آ گیا تھا۔
کیمبرج کا کہنا ہے کہ تخمینہ شدہ نمبروں کا نظام دیانت دار طلبہ کے مفادات کے تحفظ اور ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کو روکنے کے لیے تحقیقی بنیادوں پر تیار کیا گیا ہے، جبکہ دنیا بھر کی جامعات بھی اس طریقہ کار کو تسلیم کرتی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق متاثرہ امیدواروں کو نومبر 2026 میں دوبارہ امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور اس کے لیے کسی قسم کی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ ری ٹیک امتحان دینے والے طلبہ بعد ازاں دونوں نتائج میں سے بہتر نتیجہ منتخب کرنے کے مجاز ہوں گے۔
کیمبرج نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا پر جعلی لیک شدہ پرچوں کی گردش نے طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں میں غیر ضروری تشویش اور بے یقینی پیدا کی۔