بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کو ایک بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑنے والا ہے، جب بدھ کے روز یہ بات واضح ہوگئی کہ بھارت اگلے ماہ چھ وائٹ بال میچوں کی سیریز کے لیے اپنی ٹیم بنگلا دیش نہیں بھیجے گا۔
بھارت کو یکم سے 13 ستمبر تک بنگلا دیش کا دورہ کرنا تھا، لیکن بدھ کے روز افغانستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا کہ وہ نئی دہلی میں بھارت کے خلاف تین T20 میچوں کی سیریز کی میزبانی/میچ کھیلے گا، جس کا پہلا میچ 13 ستمبر کو ہوگا۔
بنگلا دیشی بورڈ اپنی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ بھارتی حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنے میں مدد مل سکے کہ وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو اپنی ٹیم بنگلا دیش بھیجنے کی اجازت دے۔
تاہم، بی سی سی آئی (BCCI) نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ یہ دورہ ہوگا یا نہیں۔
بنگلا دیشی بورڈ اور حکومت نے بھارتی ٹیم کو صدارتی سطح کی سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو نئی دہلی میں قیام کی اجازت دینے پر دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔
سیاسی ماحول اس وقت مزید گرم ہوگیا جب شیخ حسینہ واجد جنہیں حکومت کے خلاف طلباء کی تحریک کے بعد 2024 میں معزول کر کے ڈھاکہ سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا تھا—نے دہلی سے ’ساؤتھ ایشین فارن کرپپونڈنٹس کلب‘ کے ساتھ ایک آن لائن میڈیا گفتگو کی۔
بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شکیب الحسن نے بھی اس آن لائن گفتگو میں حصہ لیا، جس کے بعد بنگلا دیش میں برہم مظاہرین نے اپنا غصہ نکالنے کے لیے ان کے آبائی گھر پر حملہ کر دیا۔
اس واقعے کے بعد بھی بنگلا دیشی بورڈ نے وائٹ بال سیریز کے لیے ٹیم بھیجنے کی تصدیق حاصل کرنے کے لیے بی سی سی آئی پر زور دیا، لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان کرکٹ اور سیاسی تعلقات 2025 میں اس وقت خاص طور پر خراب ہوئے جب پاکستانی حکومت اور کرکٹ بورڈ نے 2026 کے اوائل میں ہونے والے ورلڈ T20 کپ کے لیے بنگلا دیش کے بھارت ٹیم نہ بھیجنے کے فیصلے کی کھلم کھلا حمایت کی تھی۔
ایک ذریعہ کا کہنا ہے کہ اپنی ٹیم بنگلا دیش نہ بھیج کر، بی سی سی آئی اپنی حکومت کی ہدایات پر بنگلا دیش کو پچھلے سال کے مؤقف اور پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کی سزا دے رہا ہو گا۔
اگر بھارتی ٹیم بنگلا دیش کا دورہ نہیں کرتی ہے تو اس کا مطلب بنگلا دیشی کرکٹ کے تخمینہ شدہ آمدنی میں بھاری نقصان ہوگا۔