’نیٹ فلکس‘ پر حال ہی میں ریلیز ہونے والی ویب سیریز ’آپریشن سفید ساگر‘ پہلی بار کارگل جنگ کو فضائیہ کے نقطۂ نظر سے دکھاتی ہے۔ جانیے، اس سیریز پر کیا سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اصل حقائق کیا ہیں۔
انڈیا کے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے 1999 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا کارگل کے بارے میں ہم انڈیا میں متعدد فلمیں اور سیریز بنیں جن میں اب تک ’ایل او سی کارگل‘ سے لے کر ’شیر شاہ‘ جیسی کئی فلمیں ہیں۔ یہ سب زمین پر لڑی جانے والی جنگوں کی کہانیاں تھیں۔
پہاڑوں پر پیدل چڑھتے فوجی، بنکر اور چوٹیوں پر لہراتا انڈین پرچم۔ نیٹ فلکس پر حال ہی میں ریلیز ہونے والی ویب سیریز ’آپریشن سفید ساگر‘ پہلی بار اس جنگ کو انڈین فضائیہ کے نقطۂ نظر سے دکھاتی ہے۔
اس سیریز کا کافی ذکر ہو رہا ہے، لیکن جب کوئی کہانی تاریخ کے صفحات سے نکل کر پردے پر آتی ہے تو اس کے ساتھ کئی سوال بھی جڑ جاتے ہیں۔
تاریخ تھی 21 فروری 1999۔ ویب سیریز ’آپریشن سفید ساگر‘ میں ایک انتہائی ڈرامائی اور تاریخی منظر کو دکھایا گیا ہے۔
منظر کے مطابق، لاہور کے گورنر ہاؤس میں انڈیا کے اُس وقت کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اپنے معروف انداز میں ایک نظم کے ساتھ اپنی تقریر ختم کی۔ اس کے بعد پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کا وقت آیا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف آگے بڑھے اور واجپائی کے ساتھ چلتے ہوئے انھیں فوجی سربراہوں سے ملوانے لگے۔ سب سے پہلے پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل فصیح بخاری آئے۔
انھوں نے بھارتی وزیرِ اعظم کو رسمی سلیوٹ کیا۔ ان کے فوراً بعد فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل پرویز مہدی قریشی نے بھی واجپائی کو سلیوٹ کیا۔
اب باری پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کی تھی۔ جیسے ہی واجپائی ان کے قریب پہنچے، مشرف ایک لمحے کے لیے رک گئے۔ چند سیکنڈ کی اس بھاری خاموشی کے بعد، باقی دونوں فوجی سربراہوں کے برعکس، مشرف نے سلیوٹ کرنے کے بجائے واجپائی کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔
ویب سیریز میں دکھائے گئے مشرف کے اس اقدام کے ساتھ نواز شریف کی جھجک اور واجپائی کے چہرے پر نمودار ہونے والی سنجیدگی کو ناظرین واضح طور پر محسوس کر سکتے ہیں۔
1999 میں پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف’دی پرنٹ‘ میں 2019 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، فروری 1999 میں واجپائی کے لاہور پہنچنے پر واہگہ بارڈر پر ان کا استقبال مکمل پروٹوکول کے ساتھ کیا گیا تھا۔ 21 توپوں کی سلامی، گارڈ آف آنر اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے، لیکن پاکستان کی کسی بھی فوج کے سربراہ وہاں موجود نہیں تھے۔
لاہور جانے والے انڈین وفد میں سینئر صحافی کلدیپ نیر بھی شامل تھے۔ وہ ان 22 افراد میں سے ایک تھے جو اس بس میں سوار تھے۔
گلف نیوز میں شائع اپنے مضمون میں انہوں نے لکھا کہ یہ مفاہمتی عمل اس لیے کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ پاکستانی فوج اس کے خلاف تھی، اور یہ بات اُس وقت واضح ہو گئی جب پاکستان کی تینوں افواج کے سربراہوں نے انڈیا کے وزیرِ اعظم کو سلامی دینے سے انکار کر دیا۔
بی بی سی نے پاکستان کے سینئر صحافی حامد میر سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ ہم نے ان سے جاننا چاہا کہ کیا انڈیا کے وزیرِ اعظم کے ساتھ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے مصافحہ کیا تھا یا سلامی دی تھی۔
اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا، ’چونکہ پاکستان کے ایئر فورس اور نیوی کے سربراہوں نے اُس وقت وردی کے ساتھ کیپ بھی پہن رکھی تھی، اس لیے انھوں نے واجپائی جی کو سلامی دی۔ لیکن جنرل پرویز مشرف نے وردی تو پہن رکھی تھی، مگر ان کے سر پر کیپ نہیں تھی۔ اسی وجہ سے انھوں نے سلامی دینے کے بجائے مصافحہ کیا۔‘
بی بی سی نے حامد میر کے ساتھ کلدیپ نیر کے گلف نیوز والے مضمون کا حوالہ بھی شیئر کیا۔ اس موقع پر انھوں نے ڈھاکا میں کلدیپ نیر سے ہونے والی ایک ملاقات کا ذکر کیا۔
حامد میر نے بتایا، ’جب میں ڈھاکا میں نیر صاحب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو واجپائی جی اور مشرف کی ملاقات کا بھی ذکر آیا تھا۔ وہاں موجود ایک صحافی نے یہی سوال پوچھا تھا۔ اس کے جواب میں نیر صاحب نے خود جواب دینے کے بجائے مجھ سے کہا تھا کہ حامد صاحب، آپ بتائیں کہ اُس وقت کیا ہوا تھا۔‘
1999 میں اس وقت کے ہندوستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائیواجپائی کے ساتھ مشرف کے مصافحہ کرنے کے بارے میں ’آپریشن سفید ساگر‘ کے مصنف سندیپ جین نے کیا کہا؟
بی بی سی نے اس سلسلے میں ’آپریشن سفید ساگر‘ کے مصنف سندیپ جین سے بات کی۔ سندیپ جین نے کہا، ’ہم ناظرین کو مشرف کی شخصیت دکھانا چاہتے تھے۔ سکرین پلے ہی ایسا ذریعہ تھا جس کے ذریعے ناظرین یہ محسوس کر سکتے تھے کہ اُس وقت مشرف کے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔‘
سندیپ جین کا ماننا ہے، ’حقیقت میں واجپائی کے لاہور پہنچنے سے پہلے ہی مشرف کارگل جنگ کی مکمل منصوبہ بندی کر چکے تھے۔ ایسے میں سکرین پلے ہی وہ ذریعہ تھا جس کے ذریعے یہ دکھایا جا سکتا تھا کہ مشرف خود کو انڈیا کے وزیرِ اعظم سے کم نہیں سمجھتے تھے۔‘
’اسی لیے اس کردار کی سنجیدگی اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے یہ دکھایا گیا کہ پاکستانی نیوی اور فضائیہ کے سربراہوں نے واجپائی کو سلیوٹ کیا جبکہ مشرف نے مصافحہ کیا۔‘
’آپریشن سفید ساگر‘ کی ریلیز کے بعد یہ بحث تیز ہو گئی کہ 2001 کے آگرہ سربراہی اجلاس کے دوران اُس وقت کے فضائیہ کے سربراہ اے وائی ٹپنس نے مشرف کو سلیوٹ نہ کر کے لاہور کا ’بدلہ‘ لیا تھا۔ دراصل یہ واقعہ آگرہ میں نہیں بلکہ 14 جولائی 2001 کو نئی دہلی کے راشٹرپتی بھون میں پیش آیا تھا۔
جنرل پرویز مشرف کارگل جنگ کے دوران پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف تھے (فائل فوٹو)15 جولائی 2001 کو ’دی ٹریبیون‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹپنس نے وردی میں ہونے کے باوجود سلامی دینے کے بجائے مصافحہ کرنا پسند کیا۔ پروٹوکول کے تحت تینوں افواج کی نمائندگی کرنے والے سربراہ کے پاس یہ اختیار موجود ہوتا ہے، اور سروس کے اعتبار سے مشرف ٹپنس سے جونیئر تھے۔
سال 2013 میں ڈی این اے اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ٹپنس نے خود کہا تھا کہ انھوں نے ’001 میں مشرف کو سلیوٹ اس لیے نہیں کیاکیونکہ پاکستانی فوج کا انڈین فوجیوں کے ساتھ رویہ ہمیشہ دشمنی پر مبنی رہا ہے۔ سلیوٹ کرنا لازمی نہیں تھا اور میں نے محض شائستگی کے طور پر مصافحہ کر لیا تھا۔‘
’آپریشن سفید ساگر‘ ویب سیریز میں یہ دکھایا گیا ہے کہ مشرف نے اکیلے ہی پوری منصوبہ بندی کی تھی اور وزیرِ اعظم نواز شریف کو اس بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔ تاہم کارگل جنگ کے بعد پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے مختلف بیانات دیے۔
سال 2007 میں صحافی شیکھر گپتا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نواز شریف نے کہا تھا کہ ’انھیں اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔‘
پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپائی (فائل فوٹو)جولائی 2006 میں بزنس پلس چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مشرف نے تصاویر دکھا کر دعویٰ کیا کہ شریف کو سب کچھ معلوم تھا۔
انھوں نے چار تصاویر پیش کیں جو 5 فروری 1999 کو کیل (پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر) کے دورے کی تھیں، یعنی واجپائی کے 19 فروری کے لاہور دورے سے بھی پہلے کی۔
دوسری جانب، کارگل کے دوران آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز نے اپنی کتاب ’ہاؤ لانگ دس سائلنس‘ میں لکھا کہ مشرف نے یہ آپریشن چند افسران کے ساتھ مل کر انجام دیا تھا۔ راج چینگپا نے 2013 میں ’دی ٹریبیون‘ میں لکھا تھا کہ عزیز کا یہ دعویٰ، کہ پوری آئی ایس آئی کو بھی اس منصوبے کی خبر نہیں تھی، ماننا مشکل ہے۔
کیا کارگل جنگ میں فوج اور فضائیہ کے درمیان تال میل کی کمی تھی؟
اس وقت کے وزیر اعظم کے ساتھ لاہور جانے والے وفد میں سینئر صحافی کلدیپ نیئر بھی شامل تھے (فائل فوٹو)ویب سیریز میں دکھایا گیا ہے کہ بحران کے وقت زمینی فوج اور فضائیہ نے فوری طور پر مل کر پاکستان کے خلاف کارروائی شروع کر دی تھی۔
لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہی ہوا تھا؟
اکتوبر 2006 میں ’فورس‘ میگزین میں شائع ہونے والے ایک مضمون (جسے 2024 میں ’دی وائر‘ نے دوبارہ شائع کیا) میں اُس وقت کے فضائیہ کے سربراہ اے وائی ٹپنس نے لکھا کہ 10 مئی سے 25 مئی 1999 کے درمیان بری فوج اور فضائیہ کے درمیان سنگین اختلافات موجود تھے، اور سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ دونوں کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی مشترکہ منصوبہ بندی نہیں ہوئی تھی۔
14 مئی کو آرمی کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل چندرشیکھر نے فضائیہ سے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹروں کی فائر سپورٹ مانگی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی منظوری صرف لڑاکا طیاروں کے استعمال کے لیے ضروری ہے، جبکہ ہیلی کاپٹروں کا استعمال سروس ہیڈکوارٹرز کا اندرونی فیصلہ ہے۔ ٹپنس مدد فراہم کرنے کے خلاف نہیں تھے، لیکن وہ دو باتوں پر قائم تھے: پہلی، منظوری حکومت سے لی جائے گی، اور دوسری، اس علاقے میں جارحانہ کردار میں استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر سٹنگر میزائلوں کے سامنے ’آسان ہدف‘ ثابت ہوں گے۔
آخرکار 24 مئی کو جنرل وید ملک کے ساتھ سخت بحث کے بعد وہ رضامند ہوئے، اور 25 مئی کو وزیرِ اعظم واجپائی کی منظوری ملنے کے بعد 26 مئی سے آپریشن شروع ہوا۔ 28 مئی کو ایک ایم آئی-17 سٹنگر میزائل کا نشانہ بن گیا اور فضائیہ کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔
اکتوبر 2006 میں 'دی ٹریبیون' کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹپنس کے اس مضمون کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج حکومت کو دراندازی کی سنگینی سے آگاہ کرنے میں ہچکچا رہی تھی۔ جواب میں جنرل وی پی ملک نے 7 جولائی 1999 کا ٹپنس کا ایک خط عوام کے سامنے پیش کیا، جس میں ٹپنس نے کارگل میں فوجیوں کی بہادری کی کھلے دل سے تعریف کی تھی۔
ملک نے اپنی کتاب ’کارگل: فرام سرپرائز ٹو وکٹری‘ میں اپنے مؤقف کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ ٹریبیون کی اسی رپورٹ میں ٹپنس نے یہ بھی کہا تھا کہ ان اختلافات کا آپریشن پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
بی بی سی سے گفتگو میں دفاعی ماہر راہول بیدی نے بتایا، ’کارگل جنگ کے دوران بری فوج اور فضائیہ کو مشترکہ آپریشن چلانے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور یہ مسئلہ آج تک پوری طرح ختم نہیں ہوا۔‘
انھوں نے کارگل جنگ کو ’انٹیلی جنس کی ناکامی‘ قرار دیا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ’واجپائی کے لاہور پہنچنے سے پہلے ہی پاکستانی فوج کے دستے ایل او سی عبور کرنا شروع کر چکے تھے، کیونکہ سردیوں میں انڈین فوج بلند چوٹیوں سے نیچے آ جاتی تھی۔‘
ان کے مطابق، ’اگر خفیہ اداروں کی جانب سے بروقت اطلاعات مل جاتیں تو اس جنگ سے بچا جا سکتا تھا۔‘
ٹائیگر ہل17ویں سکواڈرن ’گولڈن ایروز‘ کا اصل کردار کیا تھا؟
’آپریشن سفید ساگر‘ میں گولڈن ایروز کا ذکر کیا گیا ہے اور دکھایا گیا ہے کہ کس طرح اس سکواڈرن نے یہ معلوم کیا کہ پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر دشمن دراندازی کر چکا تھا۔
گولڈن ایروز بنیادی طور پر ایک جاسوسی اور نگرانی کرنے والا سکواڈرن تھا۔ کارگل جنگ کے دوران سابق فضائیہ سربراہ بی ایس دھنوا 17ویں اسکواڈرن کے کمانڈنگ افسر تھے۔
ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا، ’آپریشن سفید ساگر کا پہلا مشن گولڈن ایروز نے ہی انجام دیا تھا۔‘
’اس وقت ایئر چیف مارشل ٹپنس فضائیہ کے سربراہ تھے۔ انھوں نے پوری فضائیہ کو الرٹ رہنے کا حکم دیا تھا۔‘
بی ایس دھنوا کے مطابق، ’ہمارے سکواڈرن کا کردار ریکی کرنا، یعنی تصاویر حاصل کرنا تھا۔ بعد میں سکواڈرن لیڈر اجے آہوجا اور فلائٹ لیفٹیننٹ کے نچیکیتا کے حادثے کے بعد ہم نے درخواست کی کہ ہمیں بمباری کی ذمہ داری بھی دی جائے۔‘
’بعد میں ہمارے سکواڈرن کے چھ طیاروں کو بمباری کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہی وہ سکواڈرن ہے جو آج رافیل طیارے اڑا رہی ہے۔‘
سکواڈرن لیڈر اجے آہوجا کی موت کیسے ہوئی تھی؟
انڈین فضائیہ کے سکواڈرن لیڈر اجے آہوجا کی لاش 30 مئی 1999 کو سری نگر کے ہوائی اڈے پر لائی گئی کارگل جنگ کے دوران فلائٹ لیفٹیننٹ کے نچیکیتا کے طیارے کا انجن بند ہونے کے باعث وہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد تباہ شدہ طیارے کی تلاش کے لیے نکلنے والے سکواڈرن لیڈر اجے آہوجا کے طیارے کو بلند پہاڑی چوٹیوں پر موجود پاکستانی فوجیوں نے میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔
لڑاکا طیارے پر میزائل لگنے کے بعد اجے آہوجا کا طیارہ تباہ ہو گیا۔ ٹپنس لکھتے ہیں، ’ایجیکشن سیٹ نے انھیں دوسری زندگی دے دی تھی، لیکن دشمن کی بربریت سے بچنے کے لیے تیسری زندگی درکار تھی۔‘
ٹپنس کے مطابق، ’طیارے سے بحفاظت باہر نکلنے کے بعد پاکستان نے سکواڈرن لیڈر اجے آہوجا کو قیدی بنا لیا تھا۔‘
انڈیا کی سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، زمین پر اترنے کے بعد پاکستانی فوجیوں نے انھیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ یہ کارگل جنگ کے دوران پیش آنے والے سب سے زیادہ دل دہلا دینے والے واقعات میں سے ایک تھا۔
کوئی بھی ویب سیریز مکمل طور پر تاریخ کی کتاب نہیں ہو سکتی۔ ناظرین کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے اس میں کچھ ڈرامائی عناصر، کچھ جذباتی پہلو اور وقت کے مطابق تقابلی اندازِ پیشکش شامل کرنا پڑتا ہے۔
’آپریشن سفید ساگر‘ نے ان پائلٹوں، ان طیاروں اور ان واقعات کو دوبارہ بحث کا موضوع بنا دیا ہے، جن کا ذکر اکثر صرف فائلوں یا فوجی جرائد میں ہی ملتا تھا۔
کارگل میں کیا ہوا تھا؟
26 مئی 1999 کو کشمیر کے گاؤں دراس میں ایک انڈین فوجی ایک ہدف پر گولی چلانے کے لیے توپ کو سیدھا کر رہا ہے (فائل فوٹو)مئی 1999 میں کارگل کی پہاڑیوں پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تھی۔ اس جنگ کا آغاز اُس وقت ہوا جب انڈیا کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے کارگل کی بلند پہاڑی چوٹیوں پر دراندازی کرکے اپنے ٹھکانے قائم کر لیے تھے۔
یہ لڑائی تقریباً 100 کلومیٹر کے علاقے میں لڑی گئی، جہاں انڈیا کے مطابق قریب 1700 پاکستانی فوجی انڈین سرحد سے تقریباً 8 یا 9 کلومیٹر اندر تک داخل ہو گئے تھے۔ اس پورے آپریشن میں انڈیا کے 527 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ 1363 اہلکار زخمی ہوئے۔
ابتدا میں انڈیا کو اپنے دو مگ طیاروں اور ایک ہیلی کاپٹر کا نقصان اٹھانا پڑا، لیکن بعد میں انڈین فضائیہ اور بوفورس توپوں نے بار بار اور شدید حملے کرکے پاکستانی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
نسیم زہرہ اپنی کتاب ’فرام کارگل ٹو دی کو‘ میں لکھتی ہیں کہ ’یہ حملے اتنے شدید اور درست تھے کہ انھوں نے پاکستانی چوکیوں کو تقریباً تباہ کر دیا تھا۔ پاکستانی فوجی بغیر مناسب رسد کے لڑ رہے تھے اور ہتھیاروں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی تھی۔‘
انڈین فوجی حکام نے خود اعتراف کیا تھا کہ ایک چھوٹے سے علاقے پر سینکڑوں توپوں سے گولہ باری کرنا ایسا تھا جیسے کسی اخروٹ کو بہت بڑے ہتھوڑے سے توڑا جا رہا ہو۔
کارگل جنگ میں کمانڈر رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل موہندر پوری کہتے ہیں کہ ’کارگل میں فضائیہ کا سب سے بڑا کردار نفسیاتی تھا۔ جیسے ہی اوپر سے انڈین جنگی طیاروں کی آواز سنائی دیتی، پاکستانی فوجیوں میں خوف پھیل جاتا اور وہ اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر اِدھر اُدھر ہونے لگتے۔‘