اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئے مالی سال کا پہلا کرنٹ اکاؤنٹ ڈیٹا جاری کردیا ہے، جس کے مطابق مالی سال کے آغاز پر ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا شکار ہوگیا ہے۔
جولائی میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر منفی رہا۔ اگرچہ خسارے کا یہ حجم پچھلے ماہ کے مقابلے میں 48 کروڑ ڈالر کم ہے (جون میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 81 کروڑ ڈالر درج کیا گیا تھا)، لیکن اس کے باوجود ملکی مالیاتی کھاتہ خسارے سے باہر نہیں نکل سکا۔
معاشی ماہرین کے مطابق، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم، برآمدات میں ہونے والے معمولی اضافے کے برعکس در آمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی بھاری تجارتی خسارے نے ترسیلاتِ زر کے مثبت اثرات کو دبا دیا اور ملکی کرنٹ اکاؤنٹ کو ایک بار پھر ریڈ زون میں دھکیل دیا۔