جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز کی تیاریوں کے سلسلوں میں ایرانی کبڈی فیڈریشن نے اپنے کھلاڑیوں کو پاکستان کے ساتھ مشترکہ تربیتی کیمپ کے لیے اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ایرانی حکام نے اپنے کھلاڑیوں کی محفوظ اور بہتر تیاری کے لیے اسلام آباد کے انتخاب کو ترجیح دی ہے۔ سال 2018 کے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی ایرانی ٹیم جمعرات کو اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔
19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک مقررہ ایشین گیمز کے لیے دونوں ممالک کے کھلاڑی مشترکہ طور پر مشقیں کریں گے۔
پاکستان کبڈی فیڈریشن کے سیکریٹری محمد سرور کے مطابق یہ کیمپ ایرانی فیڈریشن کی خاص درخواست پر لگایا گیا ہے، جہاں روزانہ کے تربیتی سیشنز کے ساتھ ایک ٹیسٹ سیریز کا انعقاد بھی زیرِ غور ہے۔
ایران نے حالیہ سالوں میں ایشین اسٹائل کبڈی میں زبردست پیش رفت کی ہے۔ اس نے 2014 کے انچیون ایشین گیمز میں سلور، 2018 کے انڈونیشیا ایشین گیمز میں جنوبی کوریا کو ہرا کر گولڈ اور 2023 کے ہانگژو ایشین گیمز میں فائنل تک رسائی حاصل کر کے سلور میڈل جیتا تھا۔
دوسری جانب پاکستان نے 2018 اور 2023 کے دونوں ایڈیشنز میں برانز میڈل اپنے نام کیے تھے۔
محمد سرور کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایشیائی کبڈی پر صرف بھارت اور پاکستان کا راج تھا، لیکن اب ایران اور جنوبی کوریا کے شاندار مظاہرے کی بدولت مقابلہ انتہائی سخت اور دلچسپ ہوچکا ہے۔
پاکستان نے ٹرائلز، قومی چیمپئن شپ اور حالیہ نیشنل گیمز کی کارکردگی کی بنیاد پر اس کیمپ کے لیے 16 رکنی سکواڈ کو فائنل کیا ہے۔