ایس ای سی پی کا انشورنس صارفین کے تحفظ کیلیے نئے مارکیٹ کنڈکٹ رولز کا مسودہ جاری

image

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے انشورنس صارفین کے حقوق کے تحفظ اور کلیمز کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کیلیے انشورنس کمپنیوں کے مارکیٹ کنڈکٹ رولز 2026 کا مسودہ عوامی مشاورت کیلیے جاری کردیا۔

مجوزہ قواعد کا اطلاق انفرادی انشورنس پالیسیوں پر ہوگا، جن کے تحت پالیسی کے اجرا سے کلیم کی ادائیگی تک انشورنس کمپنیوں کی ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں۔ کلیمز میں تاخیر ختم کرنے کیلیے مختلف اقسام کے کلیمز پر لازمی ٹائم لائنز مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ رولز کے تحت لائف انشورنس کلیم پر مطلوبہ دستاویزات موصول ہونے کے بعد 20 دن میں فیصلہ کرنا ہوگا، موٹر انشورنس کلیم پر سروے رپورٹ ملنے کے بعد 5 دن جبکہ دیگر نان لائف انشورنس کلیمز پر 7 دن میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ کلیم منظور ہونے کے بعد کمپنی کو 7 دن کے اندر ادائیگی کرنا ہوگی۔

ہیلتھ انشورنس کے حوالے سے تجویز ہے کہ اسپتال میں زیر علاج مریض کا کلیم 20 دن میں نمٹایا جائے جبکہ ڈسچارج کی منظوری 3 گھنٹے کے اندر دینا لازم ہوگی۔ انشورنس کمپنی کی تاخیر کے باعث مریض کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے سے نہیں روکا جاسکے گا۔

مسودے کے مطابق کمپنیوں کو کلیم کیلیے صرف متعلقہ دستاویزات طلب کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ کلیمز کے تصفیے، مسترد اور زیر التوا کلیمز کا ڈیٹا اپنی ویب سائٹس پر جاری کرنا ہوگا۔ ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا کلیمز کا تناسب بھی ظاہر کرنا لازم ہوگا۔

نئی انشورنس پالیسی کی درخواست 7 دن میں نمٹانے، لائف انشورنس پالیسی کی دستاویزات زیادہ سے زیادہ 20 دن میں جاری کرنے اور ڈیجیٹل ذرائع سے فروخت ہونے والی پالیسی 3 دن کے اندر جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

موٹر انشورنس میں پالیسی ہولڈر کو گاڑی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو اور اوور انشورنس و انڈر انشورنس کے اثرات سے آگاہ کرنا لازم ہوگا، جبکہ منظور شدہ مرمت عمومی طور پر 15 دن میں مکمل کرنا ہوگی۔

مجوزہ قواعد کے تحت نان لائف انشورنس پالیسی ہولڈر کو بغیر وجہ بتائے پالیسی منسوخ کرنے کا حق بھی دیا جائے گا۔ قواعد کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 10 لاکھ روپے تک جرمانہ جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں روزانہ مزید 10 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔

ایس ای سی پی نے مجوزہ رولز پر عوام اور اسٹیک ہولڈرز سے 30 دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کرلیے ہیں۔ عوامی مشاورت مکمل ہونے کے بعد مسودہ منظوری کیلیے ایس ای سی پی پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US