صوبائی وزیر صنعت جام اکرام اللہ دھاریجو نے سیکریٹری صنعت شازیہ جعفر اور دیگر اعلیٰ افسران کے ہمراہ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کا دورہ کیا۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر کاٹی اکرام راجپوت نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے کا انفراسٹرکچر شدید متاثر ہے، جہاں تجاوزات اور اراضی کے بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے کے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 20 سے 25 ارب روپے درکار ہیں۔
اکرام راجپوت نے تجویز دی کہ سندھ حکومت نئے صنعتی زونز قائم کرنے کے بجائے پہلے سے موجود کورنگی انڈسٹریل ایریا کو ماڈل زون بنائے اور اس مقصد کے لیے صوبائی و وفاقی حکومتیں مل کر اقدامات کریں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کائٹ لمیٹڈ زاہد سعید نے کہا کہ رواں سال ملکی برآمدات میں کراچی کا حصہ 54 فیصد رہا ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ شہرِ قائد ملک کی آدھی سے زیادہ معیشت کو چلا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس حکومت نے کورنگی صنعتی علاقے کے لیے 105 ارب روپے فراہم کیے تھے، جس پر وہ سندھ حکومت کے مشکور ہیں اور جلد ہی علاقے میں مختلف منصوبوں پر کام شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے تمام انڈسٹریل زونز کو سندر انڈسٹریل زون کے ماڈل پر تیار کیا جائے۔ زاہد سعید نے مزید نشاندہی کی کہ مہران ٹاؤن کے ایک بڑے حصے پر کاٹیج انڈسٹری قائم ہے اور زمین کی ساخت سے متعلق عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد اب وہاں ایک بہترین ماڈل کاٹیج انڈسٹریل زون قائم کرنے کا سنہری موقع موجود ہے۔
صوبائی وزیر صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر سخت تنقید کی اور سندھ حکومت کی جانب سے صنعت کاروں کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی پورے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، لیکن اس کے باوجود وفاق اس تناسب سے شہر میں ترقیاتی کام نہیں کرواتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کراچی میں تمام بڑے اور اہم ترقیاتی پروجیکٹس سندھ حکومت خود تعمیر کروا رہی ہے۔
جام اکرام اللہ دھاریجو نے صنعتی علاقوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ چاہتی ہے کہ صنعتی تنظیمیں اپنے متعلقہ علاقوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور تعمیر کا کام خود سنبھالیں۔ اس مقصد کے لیے تمام درکار فنڈز حکومت سندھ فراہم کر رہی ہے اور اب تک صنعتی علاقوں کی بحالی و ترقی کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے صنعتی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ان 10 ارب روپے کے فنڈز کو شفاف اور مکمل طریقے سے استعمال کریں اور کام پورا کرنے کے بعد مزید فنڈز کا مطالبہ کریں۔
صوبائی وزیر صنعت نے صنعت کاروں کے لیے ایک بڑی رعایت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی خواہش اور تجویز ہے کہ نئے قائم کیے جانے والے صنعتی زونز میں سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو زمینیں بالکل مفت فراہم کی جائیں تاکہ صنعتی سرگرمیوں اور روزگار میں اضافہ ہوسکے۔