پاکستان کے ٹیسٹ فاسٹ باؤلر سہیل خان کو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اندرونی سیاست اور انا پرستی کی وجہ سے پاکستان کرکٹ زوال کا شکار ہوئی، جس کے نتیجے میں غلط سلیکشن اور قومی ٹیموں کی مایوس کن کارکردگی سامنے آئی۔
2009 اور 2017 کے درمیان 9 ٹیسٹ، 13 ون ڈے اور 5 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سہیل خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے غیر ملکی کوچز کو بھی ڈریسنگ روم کی سیاست میں ملوث دیکھا۔
انہوں نے بتایا کہ کس طرح کچھ غیر ملکی کوچز ان کھلاڑیوں کی حمایت حاصل کرنے اور انہیں بیک کرنے کی زیادہ فکر کرتے تھے جن کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ پاکستان کرکٹ میں ان کا اثر و رسوخ ہے۔
سہیل خان نے کہا، "جب مکی آرتھر ہیڈ کوچ تھے تو میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ صرف ان کھلاڑیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے جن کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ وہ بااثر ہیں، جبکہ باقی کھلاڑیوں پر ان کی زیادہ توجہ نہیں تھی۔"
سہیل، جن پر ایک بار ٹیلی ویژن پر ہیڈ کوچ توصیف احمد پر شدید تنقید کرنے کی وجہ سے کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے 12 ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی، نے کہا کہ وہ ہمیشہ صاف گوئی اور کھلے دل سے بات کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "جب آپ بطور کھلاڑی سخت محنت کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے سامنے کچھ غلط چیزیں ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس سے حوصلہ شکنی ہوتی ہے، اور اس چیز نے ہماری کرکٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔"
خان نے کہا کہ انہوں نے خود دیکھا کہ کچھ کھلاڑی سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے تھے۔
"ایک بار انگلینڈ میں وقار نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھے گڈ لینتھ پر گیند پچ کر کے دیر سے سوئنگ کرنے کا طریقہ سکھائیں گے، تو دیگر کھلاڑی طنز آمیز جملے کسنے لگے کہ 'تم نے کوچ سے کیا سیکھ لیا ہے؟'"
انہوں نے کہا، "سچ یہ ہے کہ میں نے وقار بھائی سے فاسٹ باؤلنگ کے بارے میں واقعی ایک نئی بات سیکھی جس نے میری بہت مدد کی۔ لیکن جب کچھ کھلاڑیوں کا ذاتی مسائل کی وجہ سے کسی کوچ سے کچھ نہ سیکھنے کا یہ رویہ ہو، تو آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟"
خان نے 2015 کے ورلڈ کپ کے دوران ویرات کوہلی سے متعلق اپنے بیانات پر بھی بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ ان کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا۔
"جب میں نے ایڈیلیڈ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلا، تو مجھے ان کے ان کھلاڑیوں کو باؤلنگ کرا کے مزہ آیا جنہوں نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ کوہلی، دھونی، روہت جیسے کھلاڑی... آپ ان کی کامیابیوں کی وجہ سے ان کا احترام کرتے ہیں۔"
انہوں نے کہا، "لیکن جب میں اپنے ملک کے لیے بھارت کے خلاف کھیل رہا ہوتا ہوں، تو میں ان کے قد و کاٹھ کو بھول جاتا ہوں اور صرف اپنے ملک کے لیے کھیلنے کے جذبے کی وجہ سے ان کے خلاف پوری طاقت سے کھیلتا ہوں۔"
انہوں نے یہ خبردار بھی کیا کہ بار بار کپتان تبدیل کرنے سے پاکستان کرکٹ مزید بحران کی دلدل میں دھنس جائے گی۔
"ہمیں استحکام کی ضرورت ہے اور تمام کھلاڑیوں پر یکساں توجہ دی جانی چاہیے، ٹیم میں کسی کے ساتھ بھی ترجیحی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔"
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کرکٹ میں جب لوگ فیصلے کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں تو ان میں غیر تحفظ کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے۔ "پاکستان کرکٹ کو بدلنے کے لیے ہم سب کو اپنے علم اور تجربے کا حصہ ڈالنا ہوگا، لیکن بدقسمتی سے یہاں بہت زیادہ سیاست ہے۔"