وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کی حمایت کردی۔
آباد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مردم شماری کے مطابق کراچی سندھ کی آبادی کا 38 فیصد ہے، تاہم وہ مردم شماری کے اعداد و شمار کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو ملنے والے وسائل کا بڑا حصہ شہر کی ترقی پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل نہ کیے جانے کے باعث مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم نے آئینی ترامیم کے ذریعے بلدیاتی اختیارات کی منتقلی کی کوشش کی، تاہم پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پہلے وہ صرف بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کا مطالبہ کرتے تھے، لیکن اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس کی بات کرنا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 32 اضلاع کو ہی 32 انتظامی یونٹس بنایا جاسکتا ہے، نئے انتظامی یونٹس کا مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے تاکہ عوام ناقص کارکردگی پر اپنے نمائندوں کو تبدیل کرسکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس کی تجویز ابھی وفاقی کابینہ کے ایجنڈے میں زیر بحث نہیں آئی، تاہم آئین میں صوبے بنانے کا طریقہ کار موجود ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ دنیا چاند پر جا رہی ہے جبکہ کراچی میں بچے گٹروں میں گرنے اور کتوں کے کاٹنے سے جانیں گنوا رہے ہیں اس لیے نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج وہ وقت آ گیا ہے جو بھی کراچی کو موجودہ نظام سے نجات دلانے میں مدد کرے گا ایم کیو ایم اس کے ساتھ ہوگی۔