پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کو منظم کرنے کے لیے نیا ریگولیٹری نظام متعارف کرا دیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال بن ثاقب کے مطابق حکومت نے چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں ورچوئل اثاثہ جات کے لیے لائسنسنگ کا نظام تیار کرلیا ہے، جبکہ لائسنسنگ ریگولیشنز جاری کرنے کے ساتھ درخواستوں کے لیے آن لائن پورٹل بھی فعال کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں کاروباری سرگرمیوں کو باقاعدہ قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لانے کے لیے لائسنس کی 10 مختلف کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں۔
وزیر مملکت کے مطابق ورچوئل اثاثہ جات کے آپریٹرز لائسنس کے حصول کے لیے 5 ستمبر تک درخواستیں جمع کراسکتے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئے ریگولیٹری نظام کا مقصد ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔