ننکانہ صاحب کے علاقے عالیاں والا میں 9 سالہ بچی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی سے اجتماعی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق تھانہ واربرٹن کی حدود میں امام مسجد حافظ شہباز الحسن کی 9 سالہ بیٹی 17 جولائی کی رات گھر سے لاپتا ہوئی۔ واقعے کے وقت بچی کے اہلخانہ گھر میں سو رہے تھے۔ تیسری جماعت کی طالبہ کے اچانک غائب ہونے پر تلاش شروع کی گئی، تاہم بعد میں اس کی لاش قریبی جوہڑ سے برآمد ہوئی۔
پولیس نے لاش کو طبی معائنے اور پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوایا، جس کی رپورٹ میں اجتماعی زیادتی کی تصدیق ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق بچی کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات بھی موجود تھے، جس کے بعد واقعے کی تفتیش مزید سنگین نوعیت اختیار کرگئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث مشتبہ ملزمان کی عمریں 20 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ حکام کے مطابق ایک مشتبہ شخص چار بچوں کا والد ہے، جبکہ واقعے میں ملوث افراد کے مقتولہ کے قریبی رشتہ دار ہونے کا بھی بتایا گیا ہے۔
پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کے مطابق مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔