کرکٹ شائقین کی نظریں کپتان اور اہم بلے باز بابر اعظم پر لگی ہیں جن کی جمعرات سے لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں شرکت شکوک و شبہات کا شکار ہے۔
ٹیم کے قریبی بااعتماد ذرائع نے بتایا کہ بابر اعظم انگلی کی چوٹ میں مبتلا ہیں اور ان کی انگلیوں کی سوجن کے باعث ان کے لیے بلے پر گرفت مضبوط رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ بابر اعظم کو انگلینڈ کے دورے سے قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں بلے بازی کے دوران پہلی بار انگلی پر چوٹ لگی تھی۔
ان کی چوٹ اس وقت مزید بگڑ گئی جب انہوں نے کاؤنٹیز الیون کے خلاف تین روزہ پریکٹس میچ میں کچھ دیر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا جہاں اسی انگلی پر دوبارہ گیند لگنے کے باعث انہیں میدان چھوڑنا پڑا۔
ذرائع نے مزید بتایا ٹیم مینجمنٹ یہ دیکھے گی کہ آیا بابر آج اور کل نیٹس میں بیٹنگ کرتے ہوئے سہولت محسوس کرتے ہیں یا نہیں، لیکن یہ ایک ایسی چوٹ ہے جس پر حتمی فیصلہ خود کھلاڑی کو ہی کرنا ہوگا۔
لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو تین دن کے اندر اننگز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جہاں سلمان علی آغا نے ٹیم کی قیادت کی تھی۔ پاکستان دونوں اننگز ملا کر 90 اوورز بھی نہ کھیل سکا ۔
پاکستان ٹیم مینجمنٹ لارڈز ٹیسٹ میں اپنے دونوں اسپنرز، علی عثمان اور ساجد خان، کو میدان میں اتارے پر بھی غور کر رہی ہے کیونکہ وہاں کی پچ کے سست ہونے اور اسپنرز کو مدد فراہم کرنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلے ٹیسٹ میں محمد عباس، خرم شہزاد اور محمد علی پر مشتمل تین رکنی فاسٹ بولنگ اٹیک کی مایوس کن کارکردگی کے بعد بابر اعظم اور ہیڈ کوچ سرفراز احمد سیریز برابر کرنے کے لیے اسپنرز پر انحصار کرنے کے حق میں ہیں۔
لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کی واحد اننگز میں بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان نے 98 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ ساجد خان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کرنے میں 8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔دسمبر 2023 کے بعد سے پاکستان کی تمام ٹیسٹ فتوحات اسپنرز کی بدولت ہی ممکن ہوئی ہیں۔