پولینڈ میں لوگوں کو تنگ کرنے اور کمپنیوں کو مالی نقصان پہنچانے کے لیے غلط پتوں پر سیکڑوں پیزا آرڈر کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولینڈ کے مرکزی ادارہ برائے انسداد سائبر کرائم کے مطابق ایک نوجوان پر لوگوں کو ہراساں کرنے، شناخت کے فراڈ اور متعدد کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔
پولیس کے مطابق مشتبہ شخص نے ملک بھر میں مختلف بے ترتیب پتوں پر سیکڑوں پیزا آرڈر کیے۔ ان آرڈرز میں جن افراد کو وصول کنندہ ظاہر کیا گیا، انہیں ان پیزا آرڈرز کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ بعض آرڈرز میں متاثرین سے متعلق ایسی ذاتی معلومات اور سنگین دھمکیاں بھی شامل تھیں، جن کے بارے میں عام طور پر صرف متاثرین ان کے قریبی دوست یا رشتہ دار ہی جانتے تھے۔
زیادہ تر جعلی آرڈرز شچیتسن شہر میں کیے گئے تاہم پولینڈ کے دیگر بڑے شہروں میں بھی کئی درجن پیزا آرڈر بھیجے گئے۔ بعض ریسٹورنٹس نے آرڈرز تیار کرکے ڈیلیور کیے، جس سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ متعدد آرڈرز تکنیکی وجوہات یا بڑی تعداد میں پیزا کی تیاری ممکن نہ ہونے کے باعث منسوخ کردیے گئے۔
پولیس کے مطابق ایک آرڈر میں 300 پیزا شامل تھے جن کی مجموعی مالیت 10 ہزار ڈالر سے زائد تھی۔
سائبر کرائم یونٹ اور میونسپل پولیس کے تفتیشی حکام نے مشتبہ شخص کے گھر پر چھاپہ مار کر ایسے آلات اور ڈیٹا اسٹوریج ڈیوائسز بھی قبضے میں لے لیے ہیں جنہیں مبینہ طور پر جعلی اور مہنگے پیزا آرڈرز کے لیے استعمال کیا گیا۔
پولیس کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور حکام یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ مشتبہ شخص نے یہ کارروائیاں کس مقصد کے تحت کیں۔جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو 8 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔