امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں اسلام مخالف ریلی کے دوران شدید کشیدگی پیدا ہوگئی، جہاں ریلی کے منتظم جیک لینگ کے خلاف سیکڑوں افراد سٹی ہال کے باہر جمع ہوگئے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد جیک لینگ کو حراست میں لے لیا گیا۔
جیک لینگ وہ شخص ہے جس کا نام کیپیٹل ہل پر حملے کے متنازع واقعے اور قرآن پاک نذرِ آتش کرنے کی مبینہ کوشش کے حوالے سے سامنے آچکا ہے۔ ریلی کے موقع پر وہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ گاڑیوں میں سوار ہو کر سٹی ہال کی جانب پہنچا، جہاں صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب گاڑیاں فٹ پاتھ پر چلتی ہوئی ہجوم کے قریب پہنچ گئیں۔
مخالف مظاہرین نے گاڑیوں پر پانی کے غبارے، بوتلیں اور دیگر اشیا پھینکیں۔ اسی دوران اسپائیڈر مین کا لباس پہنے ایک شخص گاڑی کے پچھلے حصے پر چڑھ گیا اور وہاں موجود افراد تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ہنگامے کے دوران دونوں جانب سے مرچوں کے اسپرے کا بھی استعمال ہوا، جس سے بدنظمی مزید بڑھ گئی۔
منیاپولس کے قائم مقام پولیس چیف بل پیٹرسن کے مطابق گاڑیاں اچانک تیزی سے فٹ پاتھ پر آئیں، جس کے نتیجے میں گاڑیوں میں موجود افراد اور ہجوم کے درمیان تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہجوم کے درمیان فوری گرفتاری کرنا اس وقت محفوظ نہیں تھا، اس لیے پہلے گاڑیوں کو وہاں سے نکالا گیا، بعد ازاں ریاستی پولیس کی مدد سے انہیں روک کر متعلقہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے واضح کیا کہ عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، چاہے وہ فٹ پاتھ پر گاڑی چلانے کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔
دوسری جانب فریڈم روڈ سوشلسٹ آرگنائزیشن کے منتظم جے یٹس نے پولیس کے طرزِ عمل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ نسل پرستانہ سرگرمیوں سے خوفزدہ نہیں اور عوام کا متحد ہو کر احتجاج کرنا ایسے عزائم کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔
واقعے کے بعد جیک لینگ کو ہینپین کاؤنٹی جیل منتقل کردیا گیا ہے، جہاں وہ فی الحال ضمانت کے بغیر زیرِ حراست ہے۔