پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ جیولن تھروور ارشد ندیم پاکستان کے کھیلوں کے حکام کے ساتھ ایک نئے تنازع کا شکار ہو گئے ہیں۔ارشد جنہوں نے اگلے ماہ ہونے والے دو بڑے بین الاقوامی مقابلوں سے قبل اپنے پرانے کوچ ٹرسیئس لیبن برگ کی زیرِ نگرانی تربیت کے لیے گزشتہ ہفتے جنوبی افریقہ کا سفر کیا تھا پر پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) سے ضروری این او سی حاصل کیے بغیر سفر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس انکشاف نے ملک کے بہترین ایتھلیٹ سے متعلق انتظامات اور کھیلوں کے حکام کے ساتھ ان کے رابطے پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ارشد نے گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں اپنی حالیہ کارکردگی پر تنقید کا سامنا کرنے کے بعد لاہور میں تربیت چھوڑ کر جنوبی افریقہ جانے کا فیصلہ کیا۔
ارشد اب 11 سے 13 ستمبر تک ہنگری میں ہونے والی 'ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ' کے لیے ٹرسیئس لیبن برگ کے ساتھ کام کر رہے ہیں جس کے بعد وہ 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک منعقد ہونے والے ایشین گیمز کے لیے جاپان روانہ ہوں گے۔
پی ایس بی کے ایک سرکاری ذریعہ نے بتایا کہ ارشد نے جنوبی افریقہ روانہ ہونے سے پہلے انہیں اطلاع نہیں دی تھی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق تمام ایتھلیٹس کو مقابلوں یا تربیت کے لیے بیرونِ ملک جاتے وقت اپنی متعلقہ فیڈریشنز اور بالخصوص پی ایس بی سے این او سی حاصل کرنا ہوتا ہے۔
ارشد شدیم نے کسی کو نہیں بتایا اور یہ سرکاری طور پر ریکارڈ پر ہے کہ انہوں نے ہم سے کوئی این او سی حاصل نہیں کیا۔ اگر ان کے پاس اس کی مناسب وجہ نہ ہوئی تو اس سے ان کے مستقبل کے سفری منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس واقعے نے کامن ویلتھ گیمز سے قبل ارشد کی تربیت کے انتظامات پر اٹھنے والے سوالات کو نمایاں کیا ہے اور ان میڈیا رپورٹس کو تقویت دی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ انہیں حکام کی جانب سے مطلوبہ مالی امداد یا سہولیات نہیں مل رہی ہیں۔
ذریعہ نے کہا کہ اگر کوئی ایتھلیٹ این او سی کے بغیر بیرونِ ملک سفر کرتا ہے اور کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے تو وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹے گا؟
2024 میں اولمپک گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان (اے ایف پی) کا ارشد کے انتظامات میں بہت کم عمل دخل رہا ہے کیونکہ پی ایس بی اور کوچ سلمان بٹ ان کے امور کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
جنوبی افریقہ میں ارشد کے ساتھ کام کرنے والے لیبن برگ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ انہیں پورا اعتماد ہے کہ اولمپک چیمپئن اپنی بہترین فارم دوبارہ حاصل کر لیں گے۔لیبن برگ نے کہا میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان کا پہلا انفرادی اولمپک چیمپئن بننے کے لیے کئی سالوں تک انتھک محنت کی ہے۔