لوگ پاکستان کرکٹ میں دلچسپی کھو رہے ہیں، رمیز راجہ

image

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ کپتان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین رمیز راجہ کو قومی ٹیم کی خراب کارکردگی کی وجہ سے بڑی تعداد میں مداحوں کے دور ہونے پر تشویش ہے۔

انگلینڈ کے سابق کپتانوں السٹیئر کک اور مائیکل وان کے ساتھ ایک کرکٹ پوڈکاسٹ پر بات کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی فکر یہ ہے کہ لوگ پاکستان کرکٹ میں دلچسپی کھو رہے ہیں۔

رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی حالیہ شکست کے بعد انے والے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ شائقین اپنی ٹیم سے کس قدر مایوس ہیں۔

رمیز راجہ نے کہا کہ اب یہ ایک معمول بن چکا ہے کہ جب آپ کوئی ٹیسٹ میچ ہارتے ہیں، تو یہ محض ایک اور شکست بن جاتی ہے اور اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کا ایک اور بڑا گروہ کرکٹ سے دور ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ چیئرمین تھے تو انہوں نے پاکستان کرکٹ کے لیے فین بیس اور برانڈ بنانے پر بہت زور دیا تھا کیونکہ مداحوں کی حمایت ختم ہونا کسی بھی ٹیم کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا میرا خیال ہے کہ پاکستان کو اپنے حامیوں کو ان کے ساتھ جڑے رہنے کی وجوہات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ میرا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ جب آپ مداحوں اور حامیوں کو کھونا شروع کر دیتے ہیں تو سمجھیں پہلا ستون گر چکا ہے۔ ایک عظیم ٹیم بننے کے لیے آپ کو اپنے ساتھ مداحوں کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی چیز باہمی تعلق قائم کرتی ہے۔

رمیز راجہ نے اس بات پر زور دیا کہ شائقین پاکستان سے ہر ٹیسٹ میچ جیتنے کی توقع نہیں کر سکتے لیکن ان کا کہنا تھا کہ کم از کم ٹیم میں جذبۂ رقابت اور لڑنے کا جذبہ نظر آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کوئی یہ توقع کر سکتا ہے کہ کوئی ٹیم تمام ٹیسٹ میچز جیتے، لیکن اصل بات لڑنے کے جذبے، میدان میں آپ کی موجودگی اور باڈی لینگویج کی ہوتی ہے۔

مائیکل وان اور السٹیئر کک نے اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی پاکستان انگلینڈ میں کھیلا اس کا ہمیشہ ایک مضبوط فین بیس رہا ہے اور انہوں نے خود یہ منظر دیکھا ہے۔وان نے کہا کہ اب انہیں واضح فرق نظر آ رہا ہے کیونکہ انہوں نے محسوس کیا کہ موجودہ سیریز کے دوران ماضی کے دوروں کے مقابلے میں بہت کم شائقین آٹوگراف کے لیے آگے آ رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US