پاکستان کو 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنے والا نیا فاسٹ بولر مل گیا

image

پاکستان کے فاسٹ بولنگ کے گٹھتے ہوئے وسائل پر تنقید سے برہم پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ایک نوجوان فاسٹ بولر قیوم خان کی دریافت کو نمایاں کر کے پیش کر رہا ہے جو بظاہر مسلسل 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کر سکتے ہیں۔

پی سی بی کی ہائی پرفارمنس سینٹر (ایچ پی سی) لاہور کے سینئر سلیکٹر اور ہیڈ آف ڈویلپمنٹ عاقب جاوید نے میڈیا کو بتایا کہ قیوم ایک مضبوط نوجوان ہیں جو مسلسل 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عاقب جاوید نے کہا انہیں حال ہی میں منعقد ہونے والے وزیراعظم ٹیلنٹ ہنٹ اسکیم کے دوران دریافت کیا گیا تھا اور ان میں واضح طور پر بہترین صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ کچھ اور نوآموز فاسٹ بولرز کو بھی ایچ پی سی میں ایک کیمپ کے لیے بلایا گیا ہے تاکہ ان کی مہارت کو نکھارا جا سکے اور فاسٹ بولنگ کی بنیادی تربیت اور کوچنگ دی جا سکے۔

پی سی بی نے 24 سے 28 اگست تک جاری رہنے والے اس کیمپ کے لیے 12 فاسٹ بولرز کو طلب کیا ہے۔قیوم خان کی دریافت کا سوشل میڈیا اور میڈیا پر خوب چرچا کیا جا رہا ہے اور ہر کوئی اس نئے ٹیلنٹ کی تعریف کر رہا ہے۔

تاہم سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر جلال الدین کا کہنا ہے کہ جب ایسے باصلاحیت نوجوان بولرز دریافت ہوں تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ انہیں اس وقت تک میڈیا سے دور رکھا جائے جب تک وہ مکمل طور پر تیار نہ ہو جائیں۔ جلال الدین نے کہا پاکستان کرکٹ میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم بہت سے کام وقت سے پہلے کر دیتے ہیں۔ اب جب یہ نوجوان، جس کا تعلق ایک دیہی پس منظر سے ہے سوشل میڈیا پر ملنے والی شہرت اور اپنی ویڈیوز دیکھے گا تو آپ کے خیال میں اس کا اس پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا وہ ذہنی طور پر اس توجہ کے لیے تیار ہے؟انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کچھ نوجوان بولرز کے بارے میں بہت شور مچایا گیا تھا اور اب وہ کہیں نظر نہیں آتے۔

ایک فاسٹ بولر صرف اس وقت مکمل تیار ہوتا ہے جب وہ مناسب ڈومیسٹک ریڈ بال کرکٹ میچز کھیل چکا ہو۔ اس عمل کے مکمل ہونے سے پہلے اس کے بارے میں پیش گوئیاں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔جلال الدین نے فاسٹ بولرز کے لیے کیمپ کے دورانیے پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہ محض 5 دن کے مختصر کیمپ میں کیا سیکھ سکتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ جس کی معیاری فاسٹ بولرز پیدا کرنے کی ایک روایات رہی ہے اس وقت بین الاقوامی سطح کے ایسے بولرز تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جو 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے بولنگ کر سکیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US