سابق ڈیشنگ وکٹ کیپر بلے باز معین خان پاکستان میں کرکٹ کے بدلتے ہوئے کلچر پر نالاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ کھلاڑی روایت حریف بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے زیادہ جذبے اور مقصدیت کا مظاہرہ کریں۔
معین خان نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور ماضی کے دیگر کپتان ہمیشہ کھلاڑیوں سے کہتے تھے کہ وہ میچ سے پہلے مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ میل جول سے گریز کریں۔
سابق کپتان نے بتایا: "عمران بھائی ہمیشہ ہم سے کہتے تھے کہ مخالف ٹیم کے ساتھ سرد مہری کا رویہ رکھیں اور میچ سے پہلے ان سے بات چیت نہ کریں، کیونکہ یہ میچ کے لیے مکمل طور پر تیار ہونے کا ایک حصہ تھا۔"
انہوں نے کہا کہ آج کل پاکستانی کھلاڑیوں کو میدان میں مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ گپ شپ کرتے، خوش گپیاں لگاتے اور یہاں تک کہ ان کے بلے وغیرہ کا معائنہ کرتے دیکھ کر انہیں بہت حیرت ہوتی ہے۔
انہیں یاد آیا کہ ایک ورلڈ کپ کے دوران جب افغانستان نے پاکستان کو ہرایا تو ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا جس میں بابر اعظم افغانستان کے ایک کھلاڑی کو بیٹ تحفے میں دے رہے تھے، جسے دیکھ کر وہ دنگ رہ گئے تھے۔
معین خان نے کہا: "یہ چیزیں ٹیم کی ذہنیت پر بہت بڑا اثر ڈالتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب جب ہم بھارت کے خلاف کھیلتے ہیں تو وہ ہم پر حاوی رہتے ہیں۔ جب آپ مخالف ٹیم کے ساتھ زیادہ بے تکلف اور دوستانہ ہو جاتے ہیں، تو آپ ذہنی طور پر ان کی برتری کو تسلیم کر چکے ہوتے ہیں۔"
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں جب بھی پاکستان کا مقابلہ بھارت سے ہوتا تھا، تو کپتان خواہ کوئی بھی ہو، وہ کھلاڑیوں پر یہ بات بالکل واضح کر دیتا تھا کہ انہیں بھارت کے خلاف اپنی بہترین کارکردگی دکھانی ہے اور کسی قسم کا کوئی بہانہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
معین خان نے کہا کہ ان کے بھی کچھ بھارتی کھلاڑیوں کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، لیکن صرف میچ ختم ہونے کے بعد۔ انہوں نے مزید کہا: "کرکٹ ایک بہت ہی زبردست اور سخت مقابلے کا کھیل ہے اور اسے ایسا ہی رہنا چاہیے۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ مختلف لیگز کی وجہ سے آج کل بین الاقوامی کھلاڑیوں کے درمیان رابطہ بڑھ گیا ہے، لیکن جب آپ اپنے ملک کے لیے کھیل رہے ہوں تو آپ کی ذہنیت بالکل مختلف ہونی چاہیے۔"