ہندو مذہب میں رکشا بندھن کا تہوار بھائی بہن کے رشتے کی محبت، اعتماد اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر بہنیں اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی باندھتی ہیں، جبکہ بھائی اپنی بہنوں کی حفاظت اور ان کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔
کراچی میں رکشا بندھن کی تیاریوں کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور باہمی بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال بھی سامنے آئی ہے، جہاں محمد انور کئی برس سے رنگ برنگے دھاگوں میں موتی پرو کر راکھیاں تیار کر رہے ہیں۔
محمد انور کراچی کے قدیمی سوامی نارائن مندر کے احاطے میں راکھیاں تیار کرتے ہیں۔ ان کے لیے راکھیاں بنانا محض روزگار یا آبائی پیشہ نہیں بلکہ ہندو برادری کے ساتھ طویل عرصے سے قائم میل جول اور بھائی چارے کی روایت کا حصہ بھی ہے۔
محمد انور کا کہنا ہے کہ ان کے باپ دادا بھی راکھیاں بنایا کرتے تھے، اسی لیے انہوں نے بھی یہ کام جاری رکھا۔ ان کے بقول ان کے بزرگ ہندو برادری کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے اور وہ بھی اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کام میں ذات یا مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں، اللہ کا شکر ہے کہ انہیں عزت ملی ہے اور وہ بھی ہندو برادری کو عزت دیتے ہیں۔
کراچی کے سوامی نارائن مندر میں رکشا بندھن کے لیے راکھیوں کی تیاری اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد باہمی احترام اور رواداری کے ساتھ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہو سکتے ہیں۔