اسپین کے شہر بونیول میں دنیا کا منفرد لا ٹوماٹینا فیسٹیول منعقد ہوا جہاں 22 ہزار سے زائد افراد نے تقریباً ایک گھنٹے تک ایک دوسرے پر ٹماٹر پھینک کر خوب ہلہ گلہ کیا۔
اس سال میلے میں شریک افراد میں تقریباً 40 فیصد غیر ملکی سیاح تھے جن میں بھارت، آسٹریلیا، جاپان، یورپ اور ایشیا کے مختلف ممالک سے آنے والے افراد شامل تھے۔ غیر مقامی شرکا کے لیے ٹکٹ کی قیمت 15 یورو مقرر تھی۔
فیسٹیول میں ٹماٹر پھینکنے سے قبل انہیں نرم کرنا لازمی ہے تاکہ کسی کو چوٹ نہ لگے جبکہ کئی شرکا آنکھوں اور کانوں کی حفاظت کے لیے گاگلز اور حفاظتی پلگ بھی استعمال کرتے ہیں۔
ایک گھنٹے بعد توپ کی آواز کے ساتھ ٹماٹر پھینکنے کا سلسلہ ختم ہوا جس کے بعد شرکا پر پانی کا اسپرے کیا گیا اور شہر کی سڑکوں کو بھی دھو کر صاف کردیا گیا۔
لا ٹوماٹینا کا آغاز 1945 میں ایک اچانک جھگڑے سے ہوا تھا جب مقامی نوجوانوں نے ایک دوسرے پر ٹماٹر پھینکنا شروع کیے۔ یہ واقعہ بعد میں سالانہ روایت میں تبدیل ہوگیا اور آج دنیا بھر کے سیاح اس منفرد میلے میں شرکت کے لیے بونیول کا رخ کرتے ہیں۔