تابوت یا فن پارہ؟ مرنے والے کا پیشہ اور شوق تابوت پر نمایاں، گھانا میں انوکھی روایت برقرار

image

افریقی ملک گھانا میں مرنے والوں کو الوداع کہنے کی ایک منفرد روایت آج بھی برقرار ہے جہاں تابوت عام ڈبے کے بجائے میت کی زندگی، پیشے، شوق اور خوابوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

گھانا میں ان منفرد تابوتوں کو ’’فینٹسی کافنز‘‘ کہا جاتا ہے۔ مقامی طور پر خصوصاً گا برادری میں یہ روایت کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اسے مرنے والے کی زندگی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

img1]

حال ہی میں 40 سالہ موسیقار فریڈرک ٹیکو اوفوری کی تدفین بھی اسی روایت کے تحت ہوئی۔ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے اوفوری کی موسیقی سے وابستگی کے باعث اہل خانہ نے ان کے لیے گٹار کی شکل کا لکڑی کا تابوت تیار کروایا۔

گھانا میں ماہی گیروں کے لیے مچھلی یا کشتی، کسانوں کے لیے کوکو کی پھلی، ڈرائیوروں کے لیے گاڑی جبکہ موسیقاروں کے لیے مختلف سازوں کی شکل کے تابوت بنائے جاتے ہیں۔ بعض افراد کے لیے موبائل فون، کیمرے اور دیگر پسندیدہ اشیا سے مشابہ تابوت بھی تیار کیے جاتے ہیں۔

اس فن کی تاریخ 1950 کی دہائی تک جاتی ہے اور اکرا کے کاریگر سیٹھ کینے کوئے کو اس روایت کے فروغ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ آج بھی اکرا میں کئی ورکشاپس موجود ہیں جہاں کاریگر ہاتھ سے لکڑی تراش کر یہ منفرد تابوت تیار کرتے ہیں۔

یہ تابوت اب عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کرچکے ہیں اور بعض نمونے بین الاقوامی عجائب گھروں میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ گھانا کے لوگوں کے نزدیک یہ تابوت موت کی علامت سے زیادہ مرنے والے کی زندگی، شناخت اور یادوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US