سرکاری تحویل میں کام کرنے والا پاکستان اسپورٹس بورڈ، ایشین گیمز کے لیے 248 رکنی پاکستانی دستے میں سے صرف 93 کھلاڑیوں اور آفیشلز کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری خالد محمود نے بتایا کہ 155 کھلاڑیوں اور آفیشلز کے اخراجات متعلقہ فیڈریشنز اور پی او اے برداشت کریں گے، جبکہ کچھ کھلاڑی اپنی مدد آپ کے تحت (سیلف فائنانس) بھی جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، "اپنی مدد آپ کے تحت جانے والے کھلاڑی اور آفیشلز اگر میڈل جیتتے ہیں تو وطن واپسی پر انہیں اس کا معاوضہ دیا جائے گا۔" انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایشین گیمز کے لیے پاکستان کی مردوں اور خواتین کی کرکٹ ٹیموں کے اخراجات پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) برداشت کر رہا ہے۔
خالد محمود کے مطابق، پی او اے کی سینئر نائب صدر فاطمہ لاکھانی اس دستے کی چیف ڈی مشن ہوں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان ایتھلیٹکس، کبڈی، مردوں و خواتین کی کرکٹ، اسکواش، شوٹنگ، ہاکی، والی بال اور باکسنگ میں میڈلز حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان 23 ڈسپلنز میں شرکت کرے گا، جن میں 14 ڈسپلنز میں خواتین کھلاڑی بھی شامل ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اپنی مدد آپ کے تحت شرکت کرنے والا کوئی کھلاڑی میڈل جیتتا ہے تو اسے سرکاری نقد انعامات ملنے چاہئیں۔ انھوں نے کہا کہ گیمز کے دوران کسی بھی شرمندگی کے واقعے سے بچنے کے لیے قومی کھلاڑیوں کو ایشین گیمز کے سلسلے میں منعقدہ ایک خصوصی ورکشاپ میں اینٹی ڈوپنگ کے حوالے سے لیکچرز بھی دیے جا رہے ہیں۔