عام طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ٹرینڈز محض تفریح تک محدود رہتے ہیں لیکن چین میں ایک خاتون کی ماضی اور موجودہ تصاویر اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں جب وہ 26 سال بعد اپنے حقیقی خاندان تک پہنچ سکیں۔
چین کے صوبے شان ڈونگ سے تعلق رکھنے والی سن مائی ہوا کی کہانی اس وقت سامنے آئی جب ایک آن لائن صارف کوشین نے ان سے متعلق معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ کوشین ایک گاؤں کے دورے پر تھے جہاں ان کی ملاقات سن مائی ہوا سے ہوئی۔ خاتون کے بال سفید ہوچکے تھے اور ان کی ذہنی حالت بھی معمول کے مطابق نہیں لگ رہی تھی۔
بات چیت کے دوران کوشین کو معلوم ہوا کہ سن مائی ہوا کا تعلق اس علاقے سے نہیں تھا۔ وہ طویل عرصے سے اپنے گھر والوں سے دوبارہ ملنے کی خواہش رکھتی تھیں، مگر اپنے خاندان تک پہنچنے کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔
سن مائی ہوا کی کچھ صلاحیتوں نے کوشین کو مزید متوجہ کیا۔ ذہنی مسائل کے باوجود وہ تجارتی اصطلاحات یاد کرکے دہرا سکتی تھیں اور انہیں درست انداز میں لکھنے کی صلاحیت بھی رکھتی تھیں۔ وہ اپنا نام لکھنے کے علاوہ مزید دو نام بھی بتا سکتی تھیں جنہیں ممکنہ طور پر ان کے رشتے داروں سے جوڑا گیا۔
خاتون نے بیجنگ کے کئی علاقوں کو بھی شناخت کیا جس سے ان کے ماضی کے بارے میں سراغ ملنے کی امید پیدا ہوئی۔ ایک مضمون میں دعویٰ کیا گیا کہ سن مائی ہوا 1968 میں بیجنگ میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کا تعلق ایک بااثر خاندان سے تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ انگریزی بولنے اور رقص کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
دستیاب معلومات کے مطابق سن مائی ہوا 2000 میں لاپتا ہوئی تھیں جس کے بعد ان کے اہلخانہ نے کئی برس تک انہیں تلاش کیا۔ اس دوران ان کا خاندان سے رابطہ مکمل طور پر ختم ہوگیا اور وہ شان ڈونگ میں رہنے لگیں۔
کوشین نے خاتون کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظام کیا۔ ٹیسٹ کے نتائج کی مدد سے بیجنگ میں ان کے بڑے بھائی کا سراغ لگایا گیا اور یوں 26 سال بعد سن مائی ہوا اپنے خاندان تک واپس پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں۔
اس وقت ان کے والدین دنیا میں نہیں رہے جبکہ ان کی بڑی بہن امریکا میں مقیم ہیں۔ تاہم اس ملاقات نے خاندان کے لیے برسوں سے جاری تلاش کا اختتام ضرور کردیا۔
سن مائی ہوا 26 سال تک اپنے گھر والوں سے دور کیوں رہیں اور وہ بیجنگ سے شان ڈونگ کیسے پہنچیں، اس بارے میں ابھی مکمل معلومات سامنے نہیں آسکیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ان کے لاپتا ہونے کے پیچھے انسانی اسمگلنگ کا کوئی معاملہ تھا یا اس کے علاوہ کوئی اور وجہ تھی۔