شیخ ابراہیم المدنی کی وفات: مسجد الحرام کے مؤذن جن کی پہلی اذان نے خود انھیں بھی رُلا دیا تھا

مسجد الحرام کے موذن شیخ ابراہیم المدنی پیر کی صبح وفات پا گئے ہیں۔ اسلام کی سب سے مقدس مسجد میں پیر کی صبح فجر کی پہلی اذان ان کی آخری اذان تھی۔

مسجد الحرام کے موذن شیخ ابراہیم المدنی پیر کی صبح وفات پا گئے ہیں۔ اسلام کی سب سے مقدس مسجد میں پیر کی صبح فجر کی پہلی اذان ان کی آخری اذان تھی۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے مذہبی امور کے صدر شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے ایک پیغام میں مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم بن عادل حمزہ المدنی کی وفات پر گہرے رنج و غم اور دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے دعا کی کہ شیخ ابراہیم المدنی کو ’بیت اللہ کی خدمت اور وہاں اذان دینے کی سعادت پر اللہ تعالی انھیں جنت الفردوس کے کشادہ باغات میں داخل کرے۔‘

سعودی میڈیا کے مطابق شیخ ابراہیم المدنی مسجد الحرام کے 24 مستقل مؤذنین میں سے ایک تھے۔ ان 24 مؤذنین میں سے چھ موذن روزانہ باری باری فجر کی پہلی اذان سمیت پانچوں فرض نمازوں کی اذانیں دیتے ہیں۔

المدنی فجر کی اذان، تکبیرات ادا کرنے اور امام کے پیچھے مُبلغ کی ذمہ داری انجام دینے کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ ان کی آخری اذان اور اس دوران فجر کے وقت مسجد الحرام کی بعض ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں۔

آخری اذان تک کا سفر

سعودی اخبارات نے مؤذن شیخ ابراہیم المدنی کی وفات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ’اِن سائیڈ دی حرمین‘ کی پوسٹ کا حوالہ دیا ہے جہاں ان کی پیر کی صبح فجر کی اذان کی ویڈیو شیئر کی گئی تھی۔

شیخ ابراہیم المدنی 1976 میں مدینہ کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش میں دادا کا گہرا اثر تھا جو کہ حافظ قرآن تھے۔ بعد ازاں انھوں نے قرآنی علوم میں تعلیمی سند حاصل کی۔

مؤذن کے طور پر اُن کا سفر 15 برس کی عمر میں ہی شروع ہو گیا تھا، جب انھوں نے مدینہ کی ایک مقامی مسجد میں اذان دینا شروع کی تھی۔ کالج سے فارغ التحصیل ہونے تک وہ اپنے تین پڑوسیوں کے ساتھ باری باری مؤذن کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔

2008 کے دوران انھیں مسجد المدّاح میں دوبارہ اذان دینے کی دعوت دی گئی، جہاں وہ اُس وقت تک خدمات انجام دیتے رہے جب تک انھیں مکہ میں مسجد الحرام کے مؤذن کے طور پر خدمات انجام دینے کا موقع نہیں ملا۔

2018 میں انھیں باضابطہ طور پر اس منصب پر مقرر کیا گیا۔ مدینہ میں پرورش پانے کے باعث شیخ ابراہیم اذان کی مدنی روایت اور انداز سے متاثر رہے ہیں۔

وہ اپنے والد کے ساتھ مکہ کے دوروں کے دوران اذان کے مخصوص مکی انداز سے بھی واقف ہوئے، جہاں اُن کی ملاقات مسجد الحرام کے سابق مؤذن اور اُن کے دادا کے دوست شیخ عبد اللطیف ملا سے ہوئی تھی۔

مسجد الحرام میں پہلی بار اذان دینے کی یادیں

اشرقت نامی ایک پوڈکاسٹ کے دوران شیخ ابراہیم المدنی نے اُس لمحے کو یاد کیا جب انھوں نے پہلی مرتبہ مسجد الحرام میں اذان دی تھی۔

انھوں نے بتایا تھا کہ وہ پچھلی پوری رات یہ سوچتے ہوئے سو نہیں سکے تھے کہ ’میں حرم میں اذان دوں گا۔ ایک غلطی یا کھانسی سے بھی فرق پڑ سکتا ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔ میں بہت خوفزدہ تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ اذان دینے کے بعد انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ ’میں اپنے کمرے میں واپس گیا، ایک شیخ میرے پاس آئے اور میری اذان کی ویڈیو دکھائی جس میں لوگ خانہ کعبہ کے گرد چکر لگا رہے تھے۔ میں یہ منظر دیکھ کر بہت رویا۔ میں بہت خوش تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’میری کیا حیثیت ہے کہ میں حرم میں اپنی آواز بلند کروں اور لوگ مجھے سنیں۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے، میرے لیے ان کا تحفہ ہے۔‘

المدنی نے کہا تھا کہ ’ایسے کئی لوگ ہیں جن کی آوازیں مجھ سے بہتر ہیں، مجھ سے بہتر اعمال ہیں لیکن یہ خدا کا فیصلہ ہے کہ جسے بھی وہ یہ عطا کرے۔‘

المدنی نے یہ بھی بتایا تھا کہ حرمین میں اذان دینا سب سے اہم ہے کیونکہ ’یہاں غلطی کی گنجائش نہیں، ایک فیصد غلطی بھی ناقابل قبول ہے۔‘

شیخ ابراہیم المدنی کی شائع شدہ ریکارڈنگز میں مسجد الحرام کے لاؤڈ سپیکروں سے دی جانے والی اُن کی متعدد اذانیں اور تکبیریں محفوظ ہیں۔ جبکہ اُن کی سب سے نمایاں ویڈیوز میں سے ایک 15 رمضان 1439 ہجری یعنی 31 مئی 2018 کی ہے۔ اسے اُس وقت مسجد الحرام سے اُن کی پہلی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی اذان قرار دیا گیا تھا اور یہ نمازِ ظہر کی اذان تھی۔

ان کی وفات کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اُن کی اذان کی ویڈیوز دوبارہ شیئر کیں جبکہ حرمین شریفین سے وابستہ متعدد افراد، اذان کے امور میں دلچسپی رکھنے والوں اور مسجد الحرام کے مؤذنین کی آوازوں سے محبت کرنے والوں نے اظہارِ افسوس کیا اور اُن کے کیریئر اور اُس آواز کو یاد کیا جو اس مقام کی یادوں سے وابستہ ہے۔

مسجد الحرام
Getty Images

مسجد الحرام میں 24 موذنین اور آٹھ ہزار سپیکر

سعودی میڈیا کے مطابق مسجد الحرام میں مؤذنین کی تعداد 24 ہے، جن میں اذان کے اوقات ہفتہ وار شیڈول کے مطابق تقسیم کیے جاتے ہیں۔ جس مؤذن کو اذان دینے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے، اسے اذان سے ایک گھنٹہ قبل مکبر کے اندر موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ہر نماز کے لیے ایک مؤذن مقرر ہوتا ہے جبکہ ایک معاون مؤذن اور ایک متبادل مؤذن بھی موجود ہوتا ہے۔

دریں اثنا سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مسجد الحرام میں جدید ساؤنڈ سسٹم نصب ہے جس میں 8,000 سپیکرز شامل ہیں اور یہ مسجد کے صحنوں اور اطراف کی سڑکوں سمیت ساڑھے چھ لاکھ مربع میٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے 120 انجینیئرز اور تکنیکی ماہرین کی ٹیم 24 گھنٹے کام کرتی ہے۔

موذنین اور امام کی آوازوں کے لیے 100 سے زیادہ مائیکروفونز استعمال کیے جاتے ہیں اور مسجد میں اس نظام میں چھ کنٹرول روم بھی موجود ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US