جمہوریت کے دعوے دار یا خاندانی موروثیت کا شاہکار؟

image

تحریر: اویس مغل

پاکستان کی سیاست میں جمہوریت، آئین کی بالادستی اور اصولوں کا راگ الاپنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب یہی باتیں ایسے سیاسی رہنماؤں کی زبان سے ادا ہوں جو اپنی ذات اور اپنی جماعت میں جمہوریت کا جنازہ نکال چکے ہوں، تو تعجب کے ساتھ ساتھ شدید افسوس بھی ہوتا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے امیر مولانا فضل الرحمن انہی رہنماؤں کی فہرست میں سرِفہرست نظر آتے ہیں۔ ایک طرف تو مولانا فضل الرحمن پارلیمان کے ایوانوں سے لے کر جلسوں کے اسٹیج تک خود کو جمہوریت کا سب سے بڑا علمدار ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف اگر ان کی اپنی جماعت کے اندرونی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو وہاں آمریت اور موروثیت کے خوفناک سائے صاف دکھائی دیتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص پچھلے 46 سال سے بلا شرکتِ غیرے اپنی پارٹی کی مسندِ اقتدار پر براجمان ہے، وہ ملک میں جمہوریت کا نفاذ کیسے ممکن بنا سکتا ہے؟

مولانا فضل الرحمن نے 1980ء میں اپنے والد مولانا مفتی محمود کے انتقال کے بعد پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ اس وقت سے لے کر آج 2026ء تک، تقریباً ساڑھے چار دہائیاں گزرنے کے باوجود، جمیعت علمائے اسلام پر صرف اور صرف ایک ہی خاندان کا قبائلی تسلط قائم ہے۔ پارٹی کے اندر بظاہر ہر تین سال بعد "اندرونی انتخابات" کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، لیکن انجام وہی نکلتا ہے یعنی مولانا فضل الرحمن ہی امیر منتخب ہوتے ہیں اور پارٹی کے تمام اہم انتظامی اور سیاسی عہدے ان کے بھائیوں، بیٹوں اور قریبی رشتہ داروں میں بانٹ دیے جاتے ہیں۔

اگر کسی سیاسی جماعت میں ساڑھے چار دہائیوں کے دوران کوئی دوسرا رہنما اس قابل نہیں بن سکا کہ وہ سربراہی کا منصب سنبھال سکے، تو یہ دو ہی باتوں کی علامت ہو سکتا ہے۔ یا تو جے یو آئی میں سیاسی بصیرت اور قابلیت کا اس قدر قحط ہے کہ مولانا کے علاوہ کوئی قیادت کا اہل ہی نہیں یا پھر پارٹی کے اندر جمہوریت کا گلا گھونٹ کر ایک ایسا جابرانہ نظام قائم کر دیا گیا ہے جہاں مولانا کے خلاف بات کرنا یا الیکشن لڑنا پارٹی سے بے دخلی کا سبب بن جاتا ہے۔ اب جس جماعت کے اندر کارکنوں کو اپنا رہنما آزادانہ طور پر منتخب کرنے کی آزادی نہ ہو، اس کا سربراہ جب ملک میں جمہوریت کا نصاب پڑھاتا ہے تو یہ خالصتاً سیاسی منافقت کے علاوہ کچھ نہیں کہلا سکتا۔

مولانا فضل الرحمن کی سیاسی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو ان کی کوئی ایک مستحکم پالیسی نظر نہیں آتی بلکہ صرف اور صرف "ذاتی و سیاسی مفاد" ہی ان کا سب سے بڑا منشور رہا ہے۔ ماضی میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے والے مولانا نے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے لیے پی ڈی ایم کا اتحاد بنایا اور ہر پلیٹ فارم سے عمران خان کو سیاسی اور اخلاقی بنیادوں پر نشانہ بنایا لیکن جیسے ہی سیاسی ہوائیں بدلیں، اقتدار کی مسند ہاتھ سے کھسکی اور نئے سیاسی معادلات قائم ہوئے، تو وہی مولانا فضل الرحمن جو کل تک عمران خان کے سخت ترین مخالف تھے، اچانک عمران خان کی رہائی کے حامی اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات اور ہمدردی کے گیت گاتے دکھائی دینے لگے۔ یہ متضاد اور دوغلی پالیسی اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ مولانا کا کوئی نظریاتی موقف نہیں ہے؛ جہاں اقتدار یا سیاسی فائدہ دکھائی دے، وہیں ان کا قبلہ درست ہو جاتا ہے۔ مفاد پرستی کی اس سے بدترین مثال ملنا مشکل ہے۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے نازک صوبوں میں جہاں پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں، وہاں مولانا فضل الرحمن کا رویہ ہمیشہ سے متنازع رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی حالات اور وفاق کے اقدامات پر مولانا کے بیانات نے نہ صرف دفاعی اداروں کے گرد شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی بلکہ امن و امان قائم کرنے کی کوششوں کو سیاسی رنگ دینے کی بھی کوشش کی۔

پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دن رات ملک کی سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن مولانا فضل الرحمن قومی سلامتی کے حساس معاملات پر بھی اپنی سیاست چمکانے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اداروں پر تنقید کے تیر چلاتے ہیں۔ جب ملک کو یکجہتی کی ضرورت ہوتی ہے، اس وقت مولانا کا یہ منفی طرزِ عمل ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے کسی طور مفید ثابت نہیں ہوتا۔

کسی بھی ملک میں جمہوریت اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب اس ملک کی سیاسی جماعتیں خود جمہوری اصولوں پر کاربند ہوں۔ مولانا فضل الرحمن کو اگر واقعی ملک میں جمہوریت اور آئین کی بحالی کا درد ہے، تو انہیں سب سے پہلے اپنے گھر یعنی اپنی جماعت میں جمہوریت لانی ہوگی۔ پاکستانی عوام اور خاص طور پر جے یو آئی کے شعور رکھنے والے کارکنوں کو اب یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ جو شخص 46 برسوں میں اپنی جماعت کے اندر جمہوریت قائم نہ کر سکا، اس کا ملک میں جمہوریت کا دعویٰ صرف اور صرف اقتدار حاصل کرنے اور اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کا ایک دلکش دلاسہ ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US