شام کے ساحلی صوبے لاذقیہ کے رہائشی محمد زکور کی زندگی کی کہانی کسی فلمی منظر سے کم نہیں۔ وہ سیکیورٹی فورسز سے بچنے کے لیے 13 سال سے زیادہ عرصے تک اپنے ہی خاندان کے گھر میں دیوار کے پیچھے بنائی گئی ایک تنگ خفیہ جگہ میں چھپے رہے، جبکہ ان کے پانچ بچے یہی سمجھتے رہے کہ ان کے والد دنیا میں نہیں رہے۔
زکور کے مطابق 2011 میں شام میں حکومت مخالف احتجاج شروع ہوا تو وہ مظاہروں میں شریک ہوئے اور دیگر مظاہرین کو سیکیورٹی فورسز سے بچانے میں بھی مدد کرتے رہے۔ اسی دوران انہیں سیاسی سیکیورٹی شاخ نے گرفتار کرلیا۔ وہ تقریباً تین ماہ تک حراست میں رہے، جہاں انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے دوسرے قیدیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دم توڑتے بھی دیکھا۔
رہائی کے بعد زکور کو اندازہ تھا کہ دوبارہ گرفتاری کا خطرہ برقرار ہے۔ کچھ عرصے تک انہوں نے مختلف دوستوں کے گھروں میں پناہ لی، لیکن ان کی موجودگی ان لوگوں کے لیے بھی خطرہ بن رہی تھی جو انہیں چھپا رہے تھے۔ آخرکار انہوں نے اپنے خاندان کی جائیداد میں ہی ایک ایسا ٹھکانہ بنانے کا فیصلہ کیا جہاں کسی کی نظر نہ پہنچ سکے۔
زکور نے تقریباً 100 کنکریٹ بلاکس سے ایک دیوار کھڑی کی اور اس کے پیچھے انتہائی محدود جگہ بنالی۔ یہ خفیہ مقام تقریباً ایک میٹر چوڑا اور تین میٹر بلند تھا۔ دیوار میں موجود چھوٹے سے سوراخ کو چھپانے کے لیے اس کے سامنے ایک فریج رکھ دیا گیا، تاکہ باہر سے کسی کو وہاں موجودگی کا شبہ نہ ہو۔
اس راز سے صرف ان کی اہلیہ واقف تھیں۔ وہی خاموشی سے ان تک کھانا، پانی، کپڑے اور دوسری ضروری چیزیں پہنچاتی رہیں۔ اگر زکور بیمار ہوتے تو اپنی علامات اہلیہ کو بتاتے اور وہ ان کے لیے دوائیں لے آتیں۔
سب سے مشکل مرحلہ بچوں سے حقیقت چھپانا تھا۔ خاندان نے پانچوں بچوں کو یہی بتایا کہ ان کے والد انتقال کرچکے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اگر بچوں کو حقیقت معلوم ہوئی تو ان کی کسی معصوم بات سے زکور کا راز افشا ہوسکتا ہے۔
یوں بچے اپنے والد کو مردہ سمجھ کر بڑے ہوتے رہے، جبکہ وہ اسی گھر میں ان سے صرف چند میٹر کے فاصلے پر ایک دیوار کے پیچھے زندگی گزار رہے تھے۔ زکور اپنے بچوں کی آوازیں سنتے تھے، ان کی زندگی کے کئی اہم لمحات سے واقف تھے، لیکن انہیں سامنے سے دیکھنے یا بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
فروری 2023 میں ترکیہ اور شمالی شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے دوران بھی زکور اسی جگہ موجود تھے۔ انہیں خوف تھا کہ اگر عمارت گر گئی تو وہ ملبے تلے دب جائیں گے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ سے یہاں تک کہا کہ اگر وہ وہیں جان سے چلے جائیں تو خفیہ راستہ بند کردیا جائے اور اسی مقام کو ان کی قبر سمجھا جائے۔
ان کی طویل روپوشی بالآخر 8 دسمبر 2024 کو ختم ہوئی، جب باغی فورسز دمشق میں داخل ہوئیں اور بشار الاسد ملک سے فرار ہوگئے۔ زکور نے بتایا کہ اس صبح انہیں باہر سے لوگوں کے ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے سنائی دیے۔ انہوں نے اہلیہ سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے، تو جواب ملا کہ حکومت کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
حالات بدلنے کے بعد زکور 13 سال سے زیادہ عرصے میں پہلی مرتبہ اپنی چھپی ہوئی جگہ سے باہر آئے۔ اس وقت ان کے بچوں کو بھی حقیقت بتائی گئی کہ ان کے والد زندہ ہیں اور اتنے برسوں سے اسی گھر میں ان سے چھپ کر زندگی گزار رہے تھے۔
زکور کی داستان اس خوفناک دور کی ایک مثال ہے جس میں گرفتاری اور تشدد کے خدشے نے انہیں اپنے ہی گھر میں ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا، جہاں آزادی کے بجائے چھپ کر زندہ رہنا ہی ان کے لیے واحد راستہ بن گیا تھا۔