"مجھے یقین نہیں آتا کہ میں اب بھی زندہ ہوں، اس خوفناک رات کے بعد سے میرا جسم مسلسل تکلیف میں ہے۔ ہاتھوں، بازوؤں اور گلے میں اتنا درد ہے کہ بات کرنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ جسمانی اذیت کے ساتھ ذہنی طور پر بھی ایک کربناک وقت سے گزر رہی ہوں۔"
امریکا میں موت کی سزا پانے والی 50 سالہ کرسٹا پائیک کا معاملہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے۔ ریاست ٹینیسی میں زہریلے انجیکشن کے ذریعے ان کی زندگی ختم کرنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد خاتون نے پہلی مرتبہ اپنی حالت کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے جیل حکام کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 ستمبر کو کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے انہیں دو مرتبہ پینٹوباربیٹل نامی مہلک دوا دی گئی، لیکن متوقع نتیجہ سامنے نہ آیا اور وہ زندہ بچ گئیں۔ اس دوران ان کی طبیعت اس قدر بگڑی کہ فوری طور پر اسپتال پہنچانا پڑا، جہاں وہ بے ہوشی کی حالت میں رہیں اور سانس بحال رکھنے کے لیے وینٹی لیٹر کی مدد لینا پڑی۔
خاتون کے قانونی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ اس ناکام کارروائی کے دوران ان کے بازو شدید متاثر ہوئے، جلد جھلس گئی اور مختلف مقامات پر چھالے بن گئے۔ کرسٹا نے اس صورتحال کا ذمہ دار متعلقہ حکام کی ناقص منصوبہ بندی اور غلطیوں کو قرار دیا ہے۔ تاہم انہوں نے مشکل وقت میں طبی امداد فراہم کرنے والے ڈاکٹروں اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ان کی پوری توجہ صحت بہتر بنانے پر ہے۔
اس واقعے کا پس منظر بھی انتہائی سنگین ہے۔ کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولین سلیمر کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ مقتولہ کی والدہ اپنی بیٹی کی قاتل کو انجام تک پہنچتے دیکھنے کے لیے خصوصی طور پر فلوریڈا سے ٹینیسی پہنچی تھیں، مگر سزا پر عمل درآمد مکمل نہ ہو سکا۔
اس غیر معمولی واقعے کے بعد ٹینیسی کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ گورنر بل لی نے معاملے کی مکمل چھان بین کا حکم دیا، جبکہ حفاظتی اور قانونی خدشات کے پیش نظر ایک دوسرے قیدی کی سزائے موت بھی مؤخر کر دی گئی۔ صورتحال کی سنگینی کے باعث ریاستی محکمۂ جیل خانہ جات کے سربراہ کو بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔
دوسری طرف کرسٹا پائیک کے وکلاء نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ ان کی مؤکلہ کو دوبارہ اسی عمل سے گزارنے کے بجائے موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا جائے۔