گاؤں کا تصور ذہن میں آئے تو عموماً سادہ مکانات، محدود سہولتیں اور عام طرزِ زندگی سامنے آتا ہے، لیکن بھارت میں ایک ایسی بستی بھی ہے جہاں بڑے بنگلے اور مہنگی گاڑیاں معمول کی بات ہیں، یہاں تک کہ رکشا چلانے والا شخص بھی کروڑوں کی جائیداد کا مالک بتایا جاتا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست اتر پردیش میں واقع روہی نامی گاؤں دہلی سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں موجود شاندار مکانات اور ان کے باہر کھڑی لگژری گاڑیاں اسے عام دیہی علاقوں سے خاصا مختلف بناتی ہیں۔
اس غیر معمولی خوشحالی کے پیچھے اصل وجہ مقامی لوگوں کا پیشہ نہیں بلکہ انہیں ملنے والا بھاری معاوضہ بتایا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پرانی آبادی متاثر ہونے کے بعد انتظامیہ نے علاقے کو نئے انداز سے آباد کیا۔ رہائشیوں کو نئے پلاٹس فراہم کرنے کے ساتھ مبینہ طور پر فی کس تقریباً 12 کروڑ روپے معاوضہ بھی دیا گیا۔
بڑی رقم ہاتھ آنے کے بعد متعدد افراد نے نئے اور مہنگے گھر تعمیر کیے، گاڑیاں خریدیں اور اپنی طرزِ زندگی تبدیل کرلی۔ بعض خاندانوں نے رقم کا کچھ حصہ زمین اور دوسرے ذرائع میں لگایا تاکہ مستقبل کے لیے سرمایہ محفوظ رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دولت آنے کے باوجود کچھ لوگوں نے اپنے پرانے پیشے نہیں چھوڑے۔ اسی لیے یہاں رکشا چلانے والے ایسے افراد بھی مل جاتے ہیں جو بنگلے اور قیمتی گاڑیوں کے مالک ہیں۔
تاہم اچانک ملنے والی دولت سب کے لیے مستقل خوشحالی ثابت نہیں ہوئی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کچھ افراد نے بڑی رقم مہنگی گاڑیوں، موبائل فونز اور دوسری آسائشوں پر خرچ کردی جبکہ بہتر منصوبہ بندی کرنے والوں نے سرمایہ کاری کو ترجیح دی۔