بھارت کے مغربی بنگال میں ایک غریب چائے باغ مزدور کی ایسی داستان سامنے آئی ہے جس نے انسانیت کی نئی مثال قائم کردی۔
جلپائی گوڑی کے دھلاباری علاقے سے تعلق رکھنے والے کریمول حق نے اپنی ماں کو بروقت اسپتال نہ پہنچا پانے کا دکھ کبھی نہیں بھلایا۔ علاقے میں ایمبولینس نہ ملنے کے باعث ان کی والدہ گھر میں ہی دم توڑ گئی تھیں۔
ماں کی موت کے بعد کریمول نے عہد کیا کہ وہ کسی اور ماں کو ایمبولینس نہ ملنے کی وجہ سے نہیں مرنے دیں گے۔ محدود آمدنی کے باوجود انہوں نے موٹر سائیکل حاصل کی اور اسے ’بائیک ایمبولینس‘ بنا کر ضرورت مند مریضوں کو مفت اسپتال پہنچانا شروع کردیا۔
خراب اور دشوار گزار راستوں سے گزرتے ہوئے وہ رات کے اندھیرے میں بھی مریضوں کو اسپتال لے جاتے رہے۔ وقت کے ساتھ لوگ انہیں محبت سے ’بائیک ایمبولینس دادا‘ کہنے لگے۔
ایک عام چائے باغ مزدور کی یہ خدمت اتنی نمایاں ہوئی کہ بھارتی حکومت نے 2017 میں کریمول حق کو پدم شری اعزاز سے نوازا۔
جس سہولت کی کمی نے ان سے ان کی ماں چھین لی، کریمول نے اپنی پوری زندگی اسی کمی کو دوسروں کے لیے دور کرنے میں لگا دی۔