گھروں میں مچھروں اور دوسرے کیڑوں سے پریشانی عام ہے اور ان سے بچنے کے لیے مختلف روایتی طریقے بھی آزمائے جاتے ہیں۔ انہی میں ایک طریقہ کڑی پتے اور کافور کی دھونی دینا ہے، جسے بعض لوگ خصوصاً رات کے وقت استعمال کرتے ہیں۔
اس گھریلو طریقے میں چند کڑی پتوں کے درمیان کافور رکھ کر جلایا جاتا ہے، جس سے تیز خوشبو والا دھواں پیدا ہوتا ہے۔ روایتی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس بو کی وجہ سے مچھر، مکھیاں اور بعض دوسرے حشرات قریب نہیں آتے۔
کچھ لوگ کڑی پتوں کو بستر کے قریب یا نیچے رکھنے کو بھی چوہوں اور کیڑوں کو دور رکھنے کا طریقہ سمجھتے ہیں، تاہم ان دعوؤں کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد محدود ہیں۔
کڑی پتے اور کافور کی دھونی کو سانس کی تکالیف، الرجی یا پیروں کی سوجن کا علاج سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ان فوائد کی قابلِ اعتماد طبی تصدیق موجود نہیں۔ الٹا دھواں دمے، الرجی یا سانس کے مسائل رکھنے والے افراد کے لیے تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔
اگر یہ طریقہ صرف خوشبو یا کیڑوں کو دور رکھنے کے لیے آزمایا جائے تو آگ اور دھوئیں سے خاص احتیاط ضروری ہے۔ جلتا ہوا کافور یا پتے بستر کے نیچے یا کسی ایسی جگہ نہ رکھیں جہاں کپڑے، گدا یا دوسری چیزیں آگ پکڑ سکتی ہوں۔