بھارت میں ایک خاتون کے گھر پہنچنے والے پراسرار کیش آن ڈیلیوری پارسل نے آن لائن خریداری اور صارفین کی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
بھارتی خاتون کرن منرال کے مطابق انہیں ایک ایسا پارسل بھیجا گیا جس پر ان کا نام، موبائل نمبر اور گھر کا پتہ بالکل درست درج تھا حیران کن بات یہ تھی کہ انہوں نے اس چیز کا کوئی آرڈر ہی نہیں دیا تھا۔
پارسل جب گھر پہنچا تو کرن وہاں موجود نہیں تھیں۔ ان کے بیٹے نے یہ سمجھ کر رقم ادا کردی کہ شاید گھر کے کسی فرد نے آن لائن خریداری کی ہوگی، لیکن پیکٹ کھولنے کے بعد معاملہ مزید عجیب ہوگیا۔ خاتون کے مطابق اندر سے ایک پرانا، پھٹا ہوا اور مبینہ طور پر استعمال شدہ کرتا نکلا۔
کرن نے واقعے کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے ممکنہ فراڈ قرار دیا اور سب سے اہم سوال یہ اٹھایا کہ کسی نامعلوم شخص یا کمپنی کے پاس ان کا درست نام، فون نمبر اور گھر کا پتہ کیسے پہنچا؟
انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ اگر ان کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے تو ممکن ہے دوسرے لوگ بھی اسی طرح کے غیر مطلوب کیش آن ڈیلیوری پارسل وصول کر رہے ہوں اور لاعلمی میں ان کی قیمت ادا کردیں۔
پارسل پہنچانے والی کمپنی Delhivery نے خاتون کی شکایت پر معذرت کرتے ہوئے معاملہ متعلقہ ٹیم کے حوالے کرنے اور تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایسا کیش آن ڈیلیوری پارسل جس کا آرڈر یاد نہ ہو، اس کی ادائیگی اور وصولی سے پہلے گھر کے دیگر افراد سے تصدیق کرلینا بہتر ہے۔