کراچی میں خواتین نے ایک ایسے شعبے میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ شروع کردیا ہے جہاں پہلے زیادہ تر مرد کام کرتے نظر آتے تھے۔ شہر کے ایک ادارے میں لڑکیاں اب الیکٹرک موٹر سائیکلیں اور اسکوٹیز خود تیار کر رہی ہیں۔ پرزے جوڑنے سے لے کر مشینوں کے استعمال اور تکنیکی خرابیوں کو دور کرنے تک، یہ خواتین بائیکس کی تیاری کے مختلف مراحل میں عملی طور پر حصہ لے رہی ہیں۔
نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق ادارے میں کام کرنے والی خواتین کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے جس کے بعد وہ ڈرل مشین، بجلی کے آلات اور دیگر ضروری اوزار استعمال کرنا سیکھتی ہیں۔ یہاں کام کرنے والی ایک ٹیکنیشن نے بتایا کہ وہ تقریباً ڈیڑھ سال سے اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ ابتدا میں انہوں نے الیکٹریشن کا کورس کیا تھا لیکن ان کی خواہش تھی کہ وہ کوئی مختلف کام کریں۔ اسی دلچسپی نے انہیں الیکٹرک بائیکس بنانے کی طرف راغب کیا۔
ایک اور خاتون کے مطابق انہیں اس ادارے میں کام کرتے ہوئے تقریباً ایک سال ہونے والا ہے۔ جب انہوں نے یہاں قدم رکھا تو بائیکس کی تیاری کا تجربہ نہیں تھا، تاہم مسلسل رہنمائی اور عملی مشق کے ذریعے وہ اب مکمل ٹیکنیشن کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔
اس منصوبے کا حصہ بننے والی ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے صرف دو سے تین ماہ میں بنیادی کام سیکھ لیا تھا اور اس تربیت کے لیے کوئی فیس بھی ادا نہیں کی۔ دو بچوں کی والدہ ہونے کے ساتھ وہ ملازمت بھی کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ گھر میں اپنے بچوں کو بتاتی ہیں کہ وہ موٹر سائیکلیں تیار کرتی ہیں تو بچے بھی ان کے کام کے بارے میں جان کر حیران ہوتے ہیں۔
مہرین نامی ٹیکنیشن پہلے ادویات سازی کے شعبے میں کام کرتی تھیں لیکن اب الیکٹرک بائیکس کی اسمبلنگ سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ یہ سن کر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک خاتون بھی موٹر سائیکل بنا سکتی ہے۔ مہرین کے مطابق سڑک پر کسی کو الیکٹرک بائیک چلاتے دیکھ کر انہیں خوشی ہوتی ہے کہ شاید اس کی تیاری میں ان کی محنت بھی شامل ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کی قیادت بھی ایک خاتون کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب خواتین مختلف صنعتوں میں اہم ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہیں تو گاڑیوں کی تیاری کے شعبے میں بھی ان کے لیے مواقع ہونے چاہئیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے خواتین کو تکنیکی تربیت اور روزگار فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔
کراچی میں سامنے آنے والی یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ مناسب تربیت اور عملی مواقع ملنے پر خواتین آٹوموٹو انڈسٹری میں بھی اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔ الیکٹرک بائیکس کی تیاری میں ان کی شمولیت نہ صرف روزگار کا ایک نیا راستہ کھول رہی ہے بلکہ دوسری لڑکیوں کو بھی تکنیکی شعبوں میں آگے بڑھنے کی ترغیب دے رہی ہے۔