موسم بدلتے ہی بازاروں میں ایک خوبصورت نارنجی رنگ کا پھل نظر آنے لگتا ہے جسے زیادہ تر لوگ جاپانی پھل کے نام سے جانتے ہیں۔ املوک کہلانے والا یہ پھل نہ صرف اپنے میٹھے ذائقے کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے بلکہ اس میں موجود غذائی اجزا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپانی پھل کی ابتدا دراصل چین سے ہوئی تھی، جہاں اسے تقریباً دو ہزار سال سے اگایا جارہا ہے۔ بعد میں یہ جاپان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں مقبول ہوا اور پاکستان میں بھی اسی نام سے پہچانا جانے لگا۔
ماہرین غذائیت کے مطابق پرسیمون میں فائبر، وٹامن اے، وٹامن سی، پوٹاشیم اور مختلف اینٹی آکسائیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ ایک درمیانے سائز کے پھل سے تقریباً 120 کیلوریز اور 6 گرام فائبر حاصل ہوسکتا ہے، جو روزمرہ غذائی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں موجود بیٹا کیروٹین جسم میں وٹامن اے میں تبدیل ہوتا ہے، جو بینائی اور مدافعتی نظام کے معمول کے افعال کے لیے ضروری ہے، جبکہ وٹامن سی جلد کی صحت اور جسم کے دفاعی نظام کو سہارا دیتا ہے۔
جاپانی پھل دل کی صحت کے لیے بھی ایک اچھا غذائی انتخاب ہوسکتا ہے۔ اس میں موجود فائبر اور قدرتی نباتاتی مرکبات، خصوصاً فلیونوئڈز، متوازن غذا کے حصے کے طور پر کولیسٹرول اور خون کی شریانوں کی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم اسے کھانے سے بلڈ پریشر یا دل کی بیماریوں کے علاج کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
اس پھل کا ایک اہم فائدہ نظام ہاضمہ سے متعلق ہے۔ فائبر آنتوں کی معمول کی حرکت کو بہتر بناتا ہے اور قبض سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ فائبر کھانے کے بعد پیٹ بھرنے کا احساس برقرار رکھنے اور غذا میں موجود شکر کے جذب کی رفتار کو نسبتاً سست کرنے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔
املوک میں پانی کی مقدار بھی خاصی زیادہ ہوتی ہے اس لیے اسے کھانے سے جسم کو اضافی پانی حاصل ہوتا ہے۔ اس میں موجود میگنیشم، فولیٹ اور دیگر معدنی اجزا اعصاب، ہڈیوں اور جسم کے مختلف افعال کے لیے اہم ہیں۔ پھل میں پائے جانے والے اینٹی آکسائیڈنٹس خلیات کو آکسیڈیٹو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، اگرچہ دماغی بیماریوں سے براہ راست تحفظ کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق جاپانی پھل کو مناسب مقدار میں متوازن غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ اسے اچھی طرح دھو کر اور مکمل پکنے کے بعد کھانا بہتر ہے، کیونکہ بعض اقسام کے کچے پھل میں موجود ٹیننز منہ میں کسیلا ذائقہ پیدا کرتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریض بھی اسے اپنی غذا میں شامل کرسکتے ہیں، تاہم قدرتی شکر اور کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یوں محدود موسم میں دستیاب ہونے والا یہ پھل ذائقے کے ساتھ کئی ضروری غذائی اجزا بھی فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ یہ کسی بیماری کا مکمل علاج نہیں، لیکن مناسب مقدار میں اس کا استعمال صحت مند اور متوازن خوراک کا مفید حصہ بن سکتا ہے۔