خاتون مالک کی دریا دلی، سردی میں ٹھٹھرتے ملازمین کو قیمتی تحفہ دے دیا

image

چین میں ایک ریسٹورنٹ کی مالکہ نے اپنے ملازمین کی محنت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں لاکھوں روپے مالیت کی نئی گاڑیاں تحفے میں دے کر حیران کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے صرف اچھی کارکردگی نہیں بلکہ ملازمین کو سخت سردی سے محفوظ رکھنے کی خواہش بھی شامل تھی۔

چینی صوبے ہینان کے شہر جیاؤزو میں ریسٹورنٹس کا کاروبار چلانے والی ما یانلی نے اپنے بہترین کارکنوں کو تقریباً 45 ہزار امریکی ڈالر مالیت کی گاڑیاں دیں۔ ان کا مقصد ملازمین کو دفتر آنے جانے کے لیے بہتر سفری سہولت فراہم کرنا تھا تاکہ انہیں خراب موسم میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ما یانلی کے مطابق اس فیصلے کا خیال انہیں گزشتہ موسم سرما میں آیا تھا، جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے کئی ملازمین صبح سویرے شدید سردی میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر کام کے لیے پہنچتے ہیں۔ ٹھنڈی ہواؤں کے باعث ان کے چہرے سرخ، کان سن اور ہاتھ اکڑ جاتے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر انہوں نے سوچا کہ اپنے کارکنوں کے لیے کچھ ایسا کرنا چاہیے جس سے ان کی روزمرہ زندگی آسان ہوسکے۔

گاڑی حاصل کرنے والے ایک ملازم نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ کمپنی کی طرف سے اتنا قیمتی تحفہ ملے گا۔ ان کے بقول ما یانلی نے پہلے صرف اتنا بتایا تھا کہ وہ انہیں ایک بڑا کھلونا دینا چاہتی ہیں، لیکن جب نئی گاڑی سامنے آئی تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔

اس اقدام کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ خاتون مالک نے گاڑیاں دینے کے بدلے ملازمین پر کوئی اضافی شرط عائد نہیں کی اور نہ ہی انہیں کسی معاہدے پر دستخط کرنے کا پابند بنایا۔

ما یانلی کا کہنا ہے کہ ان کی کاروباری کامیابی کے پیچھے ملازمین کی مسلسل محنت اور لگن شامل ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ کمپنی کی ترقی کا فائدہ صرف مالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس میں ان لوگوں کو بھی حصہ ملنا چاہیے جو روزانہ اس کاروبار کو کامیاب بنانے کے لیے کام کرتے ہیں۔

چینی کاروباری خاتون کا یہ اقدام ملازمین کی فلاح و بہبود اور ان کی خدمات کے اعتراف کی ایک مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں بہترین کارکردگی دکھانے والوں کو انعام دینے کے ساتھ ان کی ذاتی مشکلات کا بھی خیال رکھا گیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US