پھانسی سے چند گھنٹے قبل نوجوان قیدی کی شادی، حق مہر میں قرآن پاک، شکر اور سرخ گلاب

image

ایران میں سزائے موت کے منتظر ایک نوجوان نے اپنی زندگی کے آخری چند گھنٹوں میں شادی کی خواہش پوری کرلی۔ نکاح کی یہ غیر معمولی تقریب جیل میں ٹیلی فون کے ذریعے انجام پائی، جبکہ دلہن بھی ایک دوسری جیل میں قید تھی۔

عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کے شہر اصفہان میں 21 سالہ علی رضا سیباہی نے اپنی 22 سالہ ساتھی مہشاد کاشائی سے نکاح کیا۔ دونوں کو احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

نوجوان کی درخواست پر اس کے وکیل نے دونوں جیلوں کے درمیان آڈیو کال کا انتظام کیا تاکہ پھانسی سے پہلے نکاح ممکن ہوسکے۔ اس موقع پر دونوں خاندانوں کی رضامندی بھی حاصل کی گئی۔

اس شادی کی ایک خاص بات حق مہر تھا، جس میں کسی بڑی رقم یا قیمتی زیور کے بجائے قرآن مجید کا ایک نسخہ، شکر کا ٹکڑا اور سرخ گلاب شامل کیا گیا۔ وکیل نے دونوں کے والدین سے ان شرائط پر نکاح کی اجازت مانگی، جس پر انہوں نے رضامندی ظاہر کردی۔

رپورٹس کے مطابق نکاح 4 اور 5 اکتوبر کی درمیانی شب ہوا، تاہم شادی کے چند گھنٹے بعد ہی 5 اکتوبر کی صبح علی رضا کو پھانسی دے دی گئی۔

نوجوان پر رواں سال 8 جنوری کو ہونے والے پُرتشدد احتجاج میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان واقعات میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ عدالت نے علی رضا کو ایک مسلح گروہ سے وابستگی اور ملکی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی تھی۔

اس واقعے میں ایک طرف نوجوان کی شادی کی آخری خواہش پوری ہوئی تو دوسری جانب نکاح کے چند ہی گھنٹوں بعد اس کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا۔ جیل میں ہونے والی اس مختصر تقریب اور غیر معمولی حق مہر کی تفصیلات نے اس مقدمے کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US