ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کا حملہ، 12 افراد ہلاک، سیکڑوں زخمی، دنیا بھر کی پروازیں متاثر

image

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے مبینہ حملے نے فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر کردیا۔ اطلاعات کے مطابق واقعے میں 12 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 309 زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 سعودی اور 2 بنگلادیشی باشندوں کے علاوہ امریکا، اردن، مصر، شام، فلسطین اور سوڈان کے شہری بھی شامل ہیں۔ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر ہنگامی اقدامات کیے گئے اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

حملے کے بعد کنگ خالد ایئرپورٹ پر فضائی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق ہوائی اڈے کو 18 گھنٹے کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور پروازوں کی بحالی کا وقت شام 6 بجے بتایا گیا۔ اس دوران ریاض آنے والے کئی طیاروں کا رخ جدہ، دمام اور مدینہ کی جانب موڑ دیا گیا۔

فضائی آمدورفت کے اعداد و شمار کے مطابق ایک دن میں طے شدہ 750 پروازوں میں سے 446 منسوخ ہوئیں، جبکہ پروازوں میں اوسط تاخیر 170 منٹ تک پہنچ گئی۔ اس صورتحال کے باعث ریاض دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا۔ امریکی حکام نے بھی اپنے شہریوں کو فی الحال اس ایئرپورٹ کا رخ نہ کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عام شہریوں اور حساس مقامات پر حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں کیونکہ ایسے واقعات پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کارروائیاں فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سعودی قیادت اور عوام کو پاکستان کی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور دیرینہ تعلقات اپنی جگہ مضبوط ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ریاض میں پیش آنے والے واقعے پر تشویش ظاہر کی۔ صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ہونے والا حملہ افسوسناک اور ناقابل قبول ہے اور وہ اس معاملے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کریں گے۔

یمن میں ممکنہ فوجی کارروائیوں میں امریکی شرکت سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کسی فوری فیصلے کا اعلان نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ واشنگٹن صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر تیزی سے قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب اپنی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ریاض میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ اب توجہ سعودی عرب کے ممکنہ ردعمل، فضائی آپریشن کی مکمل بحالی اور امریکا کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US