سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے نے ایک مصری خاندان کی خوشیاں چھین لیں۔ 28 سالہ ایئرہوسٹس عزہ رمزی محمد حسن، جو جلد شادی کے بندھن میں بندھنے والی تھیں حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئیں۔
عزہ رمزی کا تعلق مصر کے صوبے البحیرہ سے تھا اور وہ سعودی ایئرلائن فلائی ناس میں بطور فضائی میزبان خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق وہ چند روز بعد مصر واپس آنے والی تھیں جہاں ان کی شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان کی شادی میں صرف چند دن باقی رہ گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے وقت عزہ ایئرپورٹ پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں کہ اچانک ہونے والے حملے میں شدید زخمی ہوگئیں۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم طبی امداد کے باوجود ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔
مصری وزارت خارجہ نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ریاض میں موجود سفارتی عملے کو میت وطن واپس بھجوانے کے انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے اس حملے میں 12 افراد کی ہلاکت اور 309 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، تاہم مختلف رپورٹس میں جانی نقصان کے اعداد و شمار مختلف سامنے آئے ہیں۔
عزہ کے اہل خانہ ان کی چھٹیوں پر واپسی اور شادی کے منتظر تھے لیکن اب انہیں اپنی بیٹی کی میت کا انتظار ہے۔ ایک ایسے گھر میں جہاں نئی زندگی کے آغاز کی تیاریاں ہو رہی تھیں وہاں اچانک اس خبر نے سب کو سوگوار کر دیا۔