اسلام آباد کی طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں پولیس تحقیقات کے دوران نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم نعمان نے امریکا بھجوانے کا جھانسہ دے کر طالبہ سے لاکھوں روپے اور قیمتی زیورات حاصل کیے جبکہ دھوکا دینے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے مختلف افراد کی شناخت استعمال کرتا رہا۔
تحقیقات میں بتایا گیا کہ لائبہ کا نعمان سے پہلا رابطہ مارچ 2023 میں ایک انشورنس کمپنی میں انٹرن شپ کے سلسلے میں ہوا تھا۔ نعمان مختلف کمپنیوں میں منیجر رہ چکا تھا اور اس سے قبل تقریباً 15 سال محکمہ اینٹی کرپشن میں ملازمت بھی کر چکا تھاجہاں سے اسے غیر حاضری کے باعث فارغ کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے بعد میں لائبہ اور اس کے اہل خانہ کو ایک اشتہاری کام سے منسلک کیا۔ اسی دوران لائبہ نے امریکا جانے کے لیے مدد مانگی تو نعمان نے عائزہ نامی لڑکی اور اس کے امریکا میں مقیم بھائی کے ذریعے ویزا دلوانے کی یقین دہانی کرائی۔ الزام ہے کہ اس نے تین مختلف اکاؤنٹس بنا کر خود ہی الگ الگ افراد کے روپ میں طالبہ سے رابطہ رکھا اور گفتگو کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے ویزے سے متعلق دستاویزات بھی فراہم کیں اور انٹرویو کی تاریخ بار بار تبدیل کرتا رہا۔ پہلے یکم ستمبر، پھر 17 ستمبر اور بعد میں 26 ستمبر کی تاریخ بتائی گئی۔ مسلسل تبدیلیوں پر لائبہ کو شک ہوا اور کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد ان کے جعلی ہونے کا انکشاف ہوا۔
رپورٹ کے مطابق طالبہ نے اس عمل کے لیے اپنے والد سے پلاٹ فروخت کروا کر 21 لاکھ روپے حاصل کیے تھےجبکہ اپنی سوتیلی والدہ کے زیورات بھی نعمان کے حوالے کیے۔ جب حقیقت سامنے آئی تو لائبہ نے کم از کم زیورات واپس کرنے کا مطالبہ کیا لیکن ملزم نے مبینہ طور پر رابطہ ختم کر دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق مالی نقصان اور زیورات کی واپسی کے دباؤ کے دوران لائبہ نے مبینہ طور پر اپنی جان لے لی۔ تاہم اس انتہائی قدم کے تمام اسباب اور ملزم کی قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔
حکام کو شبہ ہے کہ نعمان نے مزید خواتین کو بھی اسی نوعیت کے فراڈ کا نشانہ بنایا ہو سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے گرفتاری سے پہلے اپنے موبائل فون کا ڈیٹا حذف کر دیا تھا، جسے فارنزک جانچ کے ذریعے بحال کرنے اور ممکنہ دیگر متاثرین تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ واقعہ آن لائن شناخت، بیرون ملک تعلیم اور ویزا فراہم کرنے کے نام پر ہونے والے فراڈ کے خطرات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ کسی شخص کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات یا وعدوں پر رقم دینے سے پہلے متعلقہ سفارت خانے اور سرکاری ذرائع سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔