امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی ٹھوس ضمانتیں طلب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بعض پہلوؤں سے امریکا ایران کے خلاف جنگ فیصلہ کن طور پر جیت چکا ہے، تاہم مخالف فریق کے پاس اب بھی ایسے وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں جن کے ذریعے وہ صورتحال اور فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
اپنے بیان میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا نے جنگ کے دوران اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم ایران کی جانب سے موجود خطرات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کی بحالی روکنے کے لیے ٹھوس ضمانتیں ضروری ہیں۔
امریکی نائب صدر نے امریکا میں پٹرول کی بلند قیمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایران تنازع ختم ہونے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قیمتیں امریکی عوام کے لیے تشویش کا باعث ہیں، تاہم تنازع کے خاتمے سے صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے۔
جے ڈی وینس نے 2028 کے امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق سوال پر کہا کہ انہوں نے ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر نے فرانس میں ہنگاموں اور سماجی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے مغربی لبرل سیاست دانوں کی امیگریشن پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تنوع کے نام پر تیسری دنیا کے باشندوں کو فرانس میں آباد کیا گیا، جبکہ تارکین وطن کے معاشرتی انضمام اور ثقافتی مطابقت جیسے اہم معاملات کو نظرانداز کیا گیا۔
جے ڈی وینس نے امریکی عوام پر زور دیا کہ وہ فرانس کی صورتحال سے سبق سیکھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ڈیموکریٹس بھی امریکا کو اسی نوعیت کے مستقبل کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
امریکی نائب صدر کے ان بیانات میں ایران کے ساتھ جاری تنازع، توانائی کی قیمتوں اور یورپ کی امیگریشن پالیسیوں پر امریکی انتظامیہ کے مؤقف کو نمایاں کیا گیا ہے۔