میں خود نہیں جانتا کہ 107 سال کی عمر تک کیسے پہنچ گیا۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اتنی لمبی زندگی کا راز کیا ہے؟ تو میں انہیں بتاتا ہوں کہ میرے پاس کوئی خاص نسخہ نہیں۔ میں نے ساری زندگی محنت کی اور اچھے انداز میں وقت گزارا۔ مجھے فش اینڈ چپس کھانا بہت پسند ہے، دل چاہے تو کھاتا ہوں لیکن کبھی ضرورت سے زیادہ نہیں کھاتا۔
یہ باتیں دوسری جنگ عظیم میں برطانوی فوج کی جانب سے خدمات انجام دینے والے اوئن فائلر نے اپنی 107ویں سالگرہ کے موقع پر بتائیں۔
ویلز سے تعلق رکھنے والے اوئن فائلر 1919 میں پیدا ہوئے اور رواں سال 16 اکتوبر کو انہوں نے زندگی کے 107 سال مکمل کر لیے۔ اس غیر معمولی عمر میں بھی وہ اپنی زندگی کے تجربات بڑے سادہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔
اوئن کے مطابق اچھی اور طویل زندگی گزارنے کے لیے کسی خاص غذا یا خفیہ طریقے کی ضرورت نہیں، بلکہ مناسب مقدار میں کھانا، مسلسل محنت کرنا اور زندگی کو اچھے انداز میں گزارنا ان کی عادت رہی ہے۔
چار بچوں کے والد اوئن فائلر کے 10 پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں جبکہ 15 پڑپوتے اور پڑنواسے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ عمر کی ایک صدی مکمل کرنے کے بعد مزید سات سال زندہ رہیں گے۔
اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں زندگی آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل تھی۔ غربت کے باعث اکثر کھانے پینے کی چیزیں اور پیسے دستیاب نہیں ہوتے تھے، اس لیے بڑھاپے کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔
اوئن فائلر کی زندگی اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ طویل عمر پانے والے ہر شخص کے پاس کوئی غیر معمولی راز نہیں ہوتا، اگرچہ ان کی عمر کو صرف کھانے پینے یا طرزِ زندگی کی عادات کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔