میں ان لوگوں سے تنگ آ چکا ہوں جو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے کسی شخص کو برا سمجھتے ہیں اور پوری مسلم برادری کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میری بیٹی نے جب 15 سال کی عمر میں قرآن مجید کا مطالعہ کیا تو اس نے مجھے بتایا کہ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔
ہمیں کسی کو اس کے مذہب یا شناخت کی بنیاد پر کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر مذہب اور معاشرے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں اور کوئی بھی انسان خامیوں سے پاک نہیں۔ اس لیے چند افراد کے رویے کو بنیاد بنا کر پوری مذہبی برادری کے بارے میں منفی رائے قائم کرنا درست نہیں۔‘‘
یہ خیالات امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن نے جنوبی فلوریڈا کے ایک گرجا گھر میں منعقدہ سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے، جہاں انہوں نے مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے گورنر کے امیدوار ڈیوڈ جولی کی انتخابی مہم میں شرکت کے دوران 80 سالہ بل کلنٹن نے مذہبی رواداری اور مختلف عقائد کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے ایک دلچسپ ذاتی واقعہ بھی سنایا کہ ان کی بیٹی نے نوعمری میں قرآن پاک کی تعلیمات کا مطالعہ کیا تھا اور اس کے ذریعے انہیں اسلام کے اس پیغام سے آگاہی ملی کہ انسانوں کے درمیان قومیت اور نسل کا فرق ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے ہے، نہ کہ نفرت یا برتری ظاہر کرنے کے لیے۔
سابق امریکی صدر کے یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کے فرانس اور مسلمانوں سے متعلق بیانات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے فرانس میں حالیہ بدامنی پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پیرس جلد ایک مسلم شہر میں تبدیل ہو جائے گا۔ ان کے اس بیان پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی شدید اعتراض کیا اور اسے ناقابلِ قبول اور احمقانہ قرار دیا۔
بل کلنٹن نے اپنی تقریر میں امریکی معاشرے کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ مذہبی اختلافات کو نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنانے کے بجائے باہمی احترام کو فروغ دینا ضروری ہے۔
ان کے بیان نے ایک مرتبہ پھر امریکا اور یورپ میں مسلمانوں کے بارے میں سیاسی بیانیے، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے ساتھ برتاؤ جیسے اہم معاملات کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔